کثیرالجہتی عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے’ شیری رحمان

اسلام آباد(بیوروچیف)نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ غیر یقینی صورتحال اور طاقت کی سیاست نے عالمی سفارتکاری کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، بے قابو آبادی میں اضافہ اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سب سے بڑا داخلی چیلنج ہے، 7 فیصد بے روزگاری کے پیش نظر ہر سال کم از کم 30 لاکھ نوکریاں پیدا کرنا ناگزیر ہے،معاشی ترقی اور روزگار کے بغیر پائیدار استحکام ممکن نہیں۔نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ عالمی انتشار میں مؤثر اور مضبوط گورننس پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ کثیرالجہتی عالمی نظام کمزور ہو چکا ہے اور دنیا دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ غیر یقینی صورتحال اور طاقت کی سیاست نے عالمی سفارتکاری کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ پاکستان 2008 سے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ رہا ہے جس کی بھاری قیمت چکائی گئی۔ انہوںنے کہاکہ سلامتی کے چیلنجز کے باوجود پاکستان نے خارجہ پالیسی کے میدان میں اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بے قابو آبادی میں اضافہ اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سب سے بڑا داخلی چیلنج ہے، 7 فیصد بے روزگاری کے پیش نظر ہر سال کم از کم 30 لاکھ نوکریاں پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوںنے کہاکہ معاشی ترقی اور روزگار کے بغیر پائیدار استحکام ممکن نہیں، کوئی دوسرا ملک ہمیں بچانے نہیں آئے گا، پاکستان کو خود اپنے وسائل سے خود کو سنبھالنا ہوگا۔شیری رحمان نے کہاکہ بلوچستان اور سندھ ڈیلٹا شدید آبی قلت اور ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں، ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور ہم وسائل کی کمی کی حد عبور کر چکے ہیں۔شیری رحمان نے کہاکہ 17 کھرب کے بجٹ میں سے 8.2 کھرب قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہونا معاشی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، محدود پی ایس ڈی پی کے ساتھ ترقیاتی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔شیری رحمان نے کہاکہ نجی شعبے کو فعال اور بااختیار بنائے بغیر 30 لاکھ سالانہ ملازمتوں کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا، محدود وسائل کے مؤثر استعمال اور اصلاحات ہی بہتر حکمرانی کی بنیاد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں