کروڑپتی بھکاری کے انتقال پر علاقہ میں سوگ

مظفر گڑھ (نامہ نگار) کروڑ پتی، صاحبِ جائیداد بھکاری انتقال کر گیا تو پورے علاقہ میں افسوس اور سوگ کا ماحول طاری ہو گیا۔مظفر گڑھ کے شوکت بھکاری انگلش زبان میں بھیک مانگنے اورپیسے مانگنے کے لئے منفرد باتین کرنے کے سبب مظفر گڑھ سے ملتان تک مشہور تھے۔ لوگ جانتے تھے کہ وہ بھیک مانگ مانگ کر کروڑ پتی ہو چکے ہیں، کئی ایکڑ زرعی رقبہ کے مالک ہیں، تب بھی لوگ انہیں شوق سے بھیک دیتے تھے۔مظفر گڑھ اور ملتان میں کروڑپتی بھکاری کی حیثیت سے مشہور شوکت بھکاری آج مظفر گڑھ کی سڑک پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی موت کی خبر علاقے میں تیزی سے پھیلی اور ماحول پر سوگ طاری ہو گیا۔علاقہ کے لوگوں نے بتایا کہ شوکت وہ بھیک مانگنے کو فن سمجھتا تھا، وہ کئی ایکڑ زرعی زمین اور بینک بیلنس کے مالک تھا اور اپنی مالی حالت کو کسی سے نہیں چھپاتا تھا بلکہ بعض اوقات تو بھیک مانگنے کے دوران اپنی بینک سٹیٹمنٹ بھی بھیک دینے والوں کو دکھا دیتا تھا۔شوکت بھکاری کے مظفر گڑھ شہر، نواحی علاقوں اور ملتان شہر میں مشہور ہونے کی بنیادی وجہ ان کا انگش زبان میں بھیک مانگنا بنا تھا۔لوگ انہیں دک کھول کر دیتے تھے حالانکہ وہ صرف ایک روپیہ مانگتے تھے۔ شوکت بھکاری اپنی بھیک کی کمائی کو زمین خریدنے کے ذریعہ اور بینک میں جمع کروا کر بچاتے تھے، رفتہ رفتہ وہ کروڑ پتی بھکاری کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ آج مظفر گڑھ میں لوگ افسردہ ہیں کہ ایک ایک روپیہ مانگ کر امیر ترین بھکاری بن جانے والا منفرد بھکاری شوکت بھکاری ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔شوکت کو ٹریفک حادثہ موضع جھینگر ماڑھا کے قریب اس وقت پیش آیا جب ان کی موٹر سائیکل ایک لوڈر رکشے سے جا ٹکرائی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق شوکت بھکاری موقع پر ہی دم توڑ گئے۔شوکت بھکاری کے فوت ہونے کے بعد علاقہ میں لوگ ان کی باتوں کا تذکرہ کر کے انہیں یاد کرتے پائے گئے۔وہ اکثر لوگوں کو نہ صرف اپنے مانگنے کے فن سے آگاہ کرتے بلکہ بعض “گاہکوں” کے سامنے فخر کے ساتھ اپنے بینک اکانٹ میں موجود لاکھوں روپے کا بھی ذکر کرتے اور بینک سٹیٹمنٹس دکھاتے تھے۔ وہ ہمیشہ صرف ایک روپیہ مانگتے ہیں اور جب لوگوں کے پاس ایک روپیہ نہ ہو تو وہ انہیں دس روپے دے دیتے ہیں۔ اس چالاک حکمتِ عملی کے باعث وہ بھکاری کم اور ایک سیلف برانڈڈ ماہرِ فنِ بھیک زیادہ نظر آتے تھے۔شوکت شاہ جمال کے رہائشی تھے، تین بچوں کے باپ تھے، اور نہ صرف بینک بیلنس رکھتے تھے بلکہ کئی ایکڑ زرعی زمین کے بھی مالک تھے۔شوکت کی موت کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا ہے، جبکہ ان کی زندگی کا انوکھا انداز، جو بھیک مانگنے کو ایک آرٹ بنا چکا تھا، سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں