کرکٹ ٹیم سے عوام کی توقعات پوری نہ ہو سکیں (اداریہ)

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا بھارت کو شکست دینے کا خواب چکنا چور ہو گیا، ٹیم نے خود میچ بھارت کے حوالے کر دیا پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر دھوکا دے گئی اور بھارت نے پاکستان کو 61 رنز کے بڑے مارجز سے شکست دیکر ٹورنامنٹ میں تیسری کامیابی حاصل کی اور سپرایٹ کے لیے کوالیفائی کر لیا ایشان کشن نے 40 گیندوں پر 77 رنز سکور کئے ان کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا یکطرفہ میچ میں پاکستانی ٹیم 18 اوورز میں 114 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی عثمان خان نے سب سے زیادہ 44 سکور 34 گیندوں پر بنائے جس میں ایک چھکا اور چھ چوکے شامل تھے پاکستان کو سپرایٹ میں جانے کیلئے نمیبیا کو شکست دینا ہو گی، صاحبزادہ فرحان ایک رن بھی سکور نہ کر سکے بابراعظم’ سلمان آغا’ صائم ایوب ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔ جس کے بعد پاکستان کی جیت کی امیدوں کے چراغ بجھ گئے بھارت نے پاکستان کیخلاف اس فارمیٹ میں مسلسل آٹھواں میچ جیتا جبکہ ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونیوالے 8 میں سے 7 میچ بھارت نے ایک میچ پاکستان نے جیتا ہے محمد نواز صرف 4رنز بنا سکے شاداب خان 17گیندوں پر 14 رنز بنا کر آئوت ہو گئے فہیم اشرف نے صرف 10 رنز سکور کئے شاہین آفریدی 19گیندوں پر 23 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن انداز میں ہوا پاور پلے کے چھ اوورز میں پاکستان کا سکور چار وکٹوں کے نقصان پر 38 رنز تھا دس اوورز میں پاکستان کا سکور چار وکٹ کے نقصان پر 71 رنز تھا بھارتی بیٹر نے پاکستان کے خلاف صرف دو کھلاڑیوں کے نقصان پر 92 رنز سکور کئے انڈین ٹیم نے 176 رنز سکور کئے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم صرف 18 اوورز میں صرف 114 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی اور یوں ایک بار پھر قومی ٹیم عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی بھارتی ٹیم کے کھلاڑی دوران کھیل اعتماد کے ساتھ کھیلے مگر پاکستانی کھلاڑیوں میں نہ صرف اعتماد کی کمی دیکھی گئی بلکہ کھلاڑی خوفزدہ انداز میں بیٹنگ کرتے رہے پاور پلے کے چھ اوورز میں ٹیم کے پاس بھرپور شاٹس لگانے کا موقع تھا اور ابتدائی 6 اوورز میں ٹیم کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کر سکتے تھے مگر یوں لگتا ہے کہ ہماری ٹیم مخالف بھارتی ٹیم سے مقابلہ کرنے سے کتراتی ہے ہمارے کھلاڑی میڈیا میں بڑی ڈینگیں مارتے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے مگر جب میدان میں ٹیم اترتی ہے تو اتنی خوفزدہ ہوتی ہے کہ ہر بال پر یا تو ایک دو رنز لئے جاتے ہیں یا پھر گیند کو سٹاپ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں بابراعظم جیسے کھلاڑی کو اتنی مرتبہ آزمانے کے بعد بھی ان کو پھر اہم ایونٹ میں کھلانا نامناسب تھا صائم ایوب’ صاحبزادہ فرحان’ محمد نواز’ شاداب خان’ فہیم اشرف جیسے کھلاڑیوں پر بہت زیادہ مان کرنیوالے سلیکٹرز کی کیا عزت رہ گئی پوری قوم نے بھارت کے ساتھ کانٹے دار مقابلے دیکھنے کے لیے بہت اہتمام کئے مگر ٹیم کی ناقص کارکردگی دیکھتے ہوئے مایوسی کا شکار ہو گئے ٹیم کے کپتان سلمان آغاز بڑے بڑے دعوے کرتے تھے مگر ان کے تمام دعوے دم توڑ گئے سلمان آغا صحافیوں سے گفتگو میں کہتے تھے کہ ہماری ٹیم بہت مضبوط اور اہم ٹی ٹوئنٹی میچوں میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں لہٰذا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی کی بناء پر کامیابیاں حاصل کریں گے مگر سلمان آغا کی ٹیم مینجمنٹ پر ناقص گرفت نے ان کو کہیں کا نہ رہنے دیا اور قومی ٹیم ایک بار پھر بھارتی ٹیم کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئی عثمان طارق کا بھارتی ٹیم سے میچ سے قبل بڑا چرچا تھا کہ وہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے مگر ان کا کوئی بھی گُر کامیاب نہیں ہوا اور وہ صرف ایک وکٹ لے سکے اور 44 رنز سکور کئے جس سے ثابت ہوا کہ ہماری ٹیم صرف شوخیاں کرنا جانتی ہے کارکردگی زیرو ہے آٹھ میچز میں سے بھارت پاکستان سے 7میچ جیت کر سرخرو ہے ہماری ٹیم ہر مرتبہ قوم کو اطمینان دلاتی ہے کہ اگلی مرتبہ ہم بھارتی ٹیم کو زیر کر لیں گے مگر خود ہی زیر ہو جاتی ہے ہمارے خیال میں بابراعظم’ شاداب خان’ صاحبزادہ فرحان ودیگر تمام کھلاڑی جو ناقص کارکردگی کے حامل ہیں ان کی جگہ نئے نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے کیونکہ اب کرکٹ جوش’ ہوش’ دلیری سے کارکردگی دکھانے کا تقاضا کرتا ہے جو کھلاڑی جتنی تیزی سے سکور بنائے گا اس کی اتنی ہی قدر ہو گی سست رفتار کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر کے جگ ہنسائی کا نشانہ ہی بنا جا سکتا ہے بی سی پی کو اب جاگنا ہو گا اور کرکٹ کی بہتری کیلئے فیصلے لینا ہوں گے ورنہ ہماری ٹیم مزید ناکامیبوں میں اضافہ کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں