2

کسانوں کو فوری طور پر قرضوں کی فراہمی ضروری ہے

اسلام آباد (بیوروچیف)پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سے کسانوں کو زرعی پیکیج دینے ،آلو خریداری، سود معاف، قرض دینے کا مطالبہ کردیا۔اسلام آباد میں چوہدری منظور کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ حکمرانوں کو سادہ سی معیشت سمجھ نہیں آتی، کسان، مزدور، تنخواہ دار اور پنشنر اپنے پاس پیسے نہیں رکھتا، کسانوں کو زرعی پیکیج کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا اس وقت بڑی سازش ہو رہی ہے، پاسکو، این ایف سی کو بند کر کے زرعی بینک کو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے، اس وقت آلو کا بحران ہے اور کسان سے آلو 10روپے کلو لیا جا رہا ہے جبکہ فی ایکڑ آلو کی فصل پر ڈھائی لاکھ روپے خرچہ آتا ہے، اور کسان کی ٹرانسپورٹیشن میں اضافہ ہو گیا ہے، اس وقت زراعت کو سب سے بڑے پیکیج کی ضرورت ہے۔چوہدری منظور نے کہا کسانوں کے پاس اگلی فصل کاشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہم 3مطالبات رکھ رہے ہیں ایک تو فوری زرعی پیکیج دیا جائے، دوم ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت آلو خریدے، تیسرا مطالبہ ہے کہ کسانوں کے لیے سود معاف کریں اور قرضے دیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں زراعت میں 1ہزار ارب روپے لگائے، بینظیر بھٹو نے بھی اپنے دور میں سود معاف کر دیا تھا، اور بڑا زرعی پیکیج دیا تھا، سڑکوں پر نکلنا آخری آپشن ہوگا، امید ہے بات وہاں تک نہیں جائے گی۔ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت قومی اداروں کے خلاف گہری سازشیں کر رہی ہے، حکومت زرعی بینک کی نجکاری اور پاسکو کو ختم کرنے جا رہی ہے، حکومت عام آدمی کو سہولتوں کی بجائے مشکلات دے رہی ہے، نیپرا کی سولرائزیشن پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا ملک میں کینو اور آلو کی ایکسپورٹ بند ہے، موجودہ حکومت کسانوں سے آلو خرید کر ایکسپورٹ کرے، حکومت فوڈ سیکورٹی کرائسز کی جانب بڑھ رہی ہے، ملک بھر میں کسان تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں، حکومت اور بیوروکریسی کے بابوں کو کسانوں کی مشکلات سمجھ نہیں آ رہیں، آج ہم پریس کانفرنس کر رہے ہیں صرف 10دن انتظار کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں