کسانوں کو کھاد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا اعلان

اسلام آباد (بیورو چیف)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کھاد جائزہ کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ربیع 2025ـ26 کیلئے یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی طلب و رسد کی صورتحال اور خریف 2026 کے لیے پیش گوئیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبوں کے نمائندگان، کھاد ساز اداروں بشمول فوجی فرٹیلائزر کمپنی، اینگرو کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی، ایف ایم پاک لمیٹڈ اور نیشنل فرٹیلائزر ڈویلپمنٹ سینٹر کے حکام سمیت دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ زراعت جو ملکی مجموعی پیداوار میں تقریباً 19 تا 20 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور 37 تا 38 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے، قومی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی و عالمی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس میں اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کا کھاد کا شعبہ طلب و رسد میں مضبوط توازن برقرار رکھے ہوئے ہے،ربیع 2025ـ26 کے دوران یوریا کی دستیابی طلب سے زیادہ رہی جس سے گندم اور دیگر فصلوں کی کاشت بلا رکاوٹ جاری رہی جبکہ ڈی اے پی کی دستیابی بھی کسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی رہی۔ صوبوں نے زرعی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کی جو بہتر فصلوں کی معاشیات اور موسمی طلب کی عکاس ہے۔پاکستان میں سالانہ تقریباً 22 تا 23 ملین ہیکٹر رقبے پر ربیع اور خریف کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں، ربیع میں گندم جبکہ خریف میں چاول، کپاس اور گنا اہم فصلیں ہیں، کھاد کا استعمال انہی فصلوں کے مطابق ہوتا ہے جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں یوریا کی سالانہ طلب 6.5 تا 7.0 ملین ٹن جبکہ ڈی اے پی کی طلب 1.2 تا 1.5 ملین ٹن کے درمیان رہتی ہے جس کا بڑا حصہ مقامی پیداوار سے پورا کیا جاتا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کا کھاد کا شعبہ مضبوط پیداواری صلاحیت رکھتا ہے اور یوریا کی سالانہ پیداواری گنجائش تقریباً 7 ملین ٹن ہے۔ یہ شعبہ وسائل کے موثر استعمال اور بہتر ہم آہنگی کے ذریعے مسلسل پیداوار اور ملک بھر میں فراہمی کو یقینی بنا رہا ہے۔خریف 2026 کے حوالے سے جائزے میں وفاقی وزیر نے اطمینان کا اظہار کیا کہ یوریا اور ڈی اے پی دونوں کی مناسب مقدار دستیاب ہوگی اور طلب کو پورا کرنے کے لیے خاطر خواہ ذخائر موجود ہوں گے، حکومت کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ بوائی کے اہم موسم میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔حکومت عالمی کھاد منڈی کی صورتحال پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور ڈی اے پی کی بروقت درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترسیل اور رسد کے نظام کو مزید موثر بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ ملک کے تمام علاقوں میں بلا تعطل فراہمی جاری رہے۔وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ کھاد مناسب قیمتوں پر کسانوں کو دستیاب ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر یوریا کی قیمتیں عالمی منڈی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں جو حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ شفافیت اور موثر تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ کھاد بروقت کسانوں تک پہنچ سکے۔رانا تنویر حسین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا کھاد کا شعبہ مستحکم، منظم اور ملک کی بڑھتی ہوئی زرعی ضروریات کو پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب ذخائر، مضبوط پیداواری صلاحیت اور موثر ہم آہنگی کے باعث ربیع 2025ـ26 اور خریف 2026 دونوں سیزن میں کھاد کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔ حکومت کسانوں کی معاونت اور زرعی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں