کسان سے گندم کی خریداری حکومتوں کی ذمہ داری ہے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدرسردارظفرحسین خاں نے صوبائی حکومت کی طرف سے امسال پھر سرکا ری طورپرگندم کی خریداری نہ کرنے کی اطلاعات کو تشویشناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے مڈل مین اورآڑھتیوں کو نوازنے کیلئے ایک دفعہ پھرکسانو ں کو د ر بد ر کرنیکافیصلہ کرلیاہے۔کسانوں کااستحصال بندنہ کیاگیاتوآئندہ برس گندم کاشت نہیں کریں گے۔حکومت کی ناقص پالیسی اور کاشتکاروں کے مالی استحصال کے خلاف وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کسانوں اور زراعت کے لیے تباہی ثابت ہوگا۔ کسان سے گندم کی خریداری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ گندم کی فصل آنے پر کسانوں کو بے یار و مددگار چھوڑدینا دیدہ و دانستہ طور پر زراعت کی تباہی ہے۔ حکومت فوری طورپر سرکاری ریٹس کااعلان کرے اوراس ریٹ پر کسانوں سے ساری گندم خریدے۔انہوںنے کہاکہ کسانوں کی چیخ و پکار پر بھی پنجاب حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی۔حکومت نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے کہنے پر زراعت پر سبسڈی ختم کی ہے۔ کسانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں،سرکاری خریداری نہ ہوئی تو کسانوں کو مڈل مین سستے داموں لوٹ لیں گے ،ایک مافیا ہے جو حکومت کی نااہلی کے باعث گندم کا قحط ہو یا فراوانی ہر دو صورتوں فائدہ اٹھاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سبسڈی دے کر پوری گندم مارکیٹ سے خریداری کو مکمل کرے تاکہ عوام کے لیے آٹا اور روٹی دسترس میں رہے۔ اضافی گندم کی فروخت کے لیے ایکسپورٹ کا نظام بنانا حکومتی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں