کمالیہ(نامہ نگار)کمالیہ کے مقام سے گزرنے والے دریائے راوی میں مبینہ طور پر زہریلا اور کیمیکل سے آلودہ پانی ڈالے جانے کے انکشاف نے شہریوں، ماحولیاتی ماہرین اور متعلقہ اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔ تازہ اطلاعات کے مطابق صنعتی فضلہ اور گندے نالوں کا غیر فلٹر شدہ پانی براہِ راست دریا میں شامل ہو رہا ہے ، جس کے باعث آبی حیات تیزی سے متاثر ہو رہی ہے جبکہ انسانوں کے لیے بھی سنگین طبی اور ماحولیاتی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ڈاکٹروں اور عوامی صحت کے ماہرین نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلودہ پانی زرعی مقاصد اور گھریلو استعمال میں آنے کی صورت میں مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے ، جن میں پیٹ اور جگر کے امراض، جلدی بیماریاں اور پینے کے پانی کی آلودگی شامل ہیں۔قریبی آبادیوں کے مکینوں نے بتایا کہ زیرِ زمین پانی میں پہلے ہی بدبو اور ذائقے کی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے ۔متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے ضلعی انتظامیہ اور ماحولیات کے اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریا کو زہریلے مادوں سے بچانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں پورا علاقہ صحت کے بڑے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔




