کمر درد سے بچائوکے طریقے

اسلام آباد (بیوروچیف) اگر آپ کمردرد کی وجہ سے پریشان ہیں تو ایسا صرف آپ کے ساتھ نہیں ہورہا، ہر5میں سے4افراد کو زندگی میں اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔کمر درد متعدد افراد کے لیے روزمرہ کے کاموں کو مشکل بنا دیتا ہے۔کمردرد کی متعدد اقسام اور وجوہات ہیں، جیسے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے یا موٹاپے سے بھی اس کا خطرہ بڑھتا ہے۔اچھی خبر یہ ہے کہ کمر کے نچلے حصے میں درد عموما چند دن یا ہفتوں میں ٹھیک ہوتا ہے اور سرجری کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے۔چند عام چیزوں کا خیال رکھ کر بھی آپ کمردرد کی روک تھام کرسکتے ہیں اور اسے واپس آنے سے روک سکتے ہیں۔اگر آپ کو کمر میں درد ہے تو ہوسکتا ہے کہ آرام کو زیادہ بہتر خیال کریں۔ایک یا 2 دن کا آرام کسی حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے مگر اس کے بعد یہ طریقہ کار کام نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین کی جانب سے جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جس سے مسلز پر تنا اور ورم میں کمی آتی ہے۔ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ایسی ورزشوں کو اپنے معمول کا حصہ بنائیں جو کمر کو مضبوط بناتی ہیں، یوگا کے کچھ آسن بھی کمر کی مضبوطی، توازن اور لچک کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اضافی جسمانی وزن خاص طور پر پیٹ اور کمر کے اردگرد چربی بڑھنا کمردرد کو زیادہ بدتر بناسکتا ہے، جسمانی وزن کو کم کرنے سے کمردرد کو کنٹرول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔تمباکو نوشی سے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں تک غذائیت سے بھرپور خون کا بہا محدود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں کمردرد کی شکایت عام ہوتی ہے۔اگر آپ کو اکثر کمردرد کا سامنا ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے نیند کی بہترین پوزیشن کے بارے میں جانیں۔عام طور پر پہلو کے بل لیٹنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اگر کمر کے بل لیٹنا چاہتے ہیں تو اپنے گھٹنوں اور کمر کے نیچے تکیے رکھیں۔کوشش کریں کہ ایسے میٹریس کا استعمال کریں جو نہ تو بہت زیادہ سخت ہو اور نہ بہت زیادہ نرم۔دیوار سے ٹیک لگا کر ایڑیوں کے بل کھڑے ہوکر اپنی جسمانی پوزیشن کو چیک کریں۔آپ کے کولہے، کندھے، کمر اور پنڈلیاں دیوار سے چھو رہے ہیں تو یہ درست پوزیشن ہے، اس کے بعد ایک یا 2 قدم آگے بڑھ کر معمول کے انداز سے کھڑے ہوجائیں، اگر یہ انداز دیوار والے سے مختلف ہو تو اسے درست کریں۔اگر آپ لیپ ٹاپ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اسے کسی ڈیسک پر رکھ کر استعمال کریں اور الگ سے کی بورڈ اور ماس ڈیوائس سے اٹیچ کریں۔گود میں لیپ ٹاپ رکھ کر استعمال کرنے کے باعث آپ کو اپنا سر کافی دیر تک آگے جھکا کر رکھنا پڑتا ہے جس سے گردن سے لے کر کمر تک ریڑھ کی ہڈیوں کے مہروں پر دبا بڑھتا ہے، جو سر، گردن اور کمر درد کا باعث بنتا ہے۔کبھی کبھار تو فون پر ٹیکسٹ یا ای میل ٹائپ کرنا ٹھیک ہے، مگر کمردرد کی شکایت ہو تو اس سے گریز کریں۔جب آپ فون پر ٹائپ کرتے ہیں تو سر کو نیچے کی جانب جھکاتے ہیں اور ایسا چند منٹ سے زیادہ کرنے سے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں پر دبا بڑھتا ہے۔بھاری چیزیں اٹھاتے ہوئے کمر کو جھکانے سے گریز کریں بلکہ گھٹنوں کو موڑ لیں، تاکہ ٹانگیں وزن کو اٹھائیں کمر نہیں۔وزن اٹھاتے ہوئے جسم کو حرکت مت دیں۔ہائی ہیل سے کشش ثقل کا مرکز بدل جاتا ہے اور کمر کے نچلے حصے پر دبا بڑھتا ہے۔تنگ ملبوسات سے جھکنے، بیٹھنے یا چلنے کا عمل متاثر ہوتا ہے جس سے کمردرد بڑھ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں