کوروناویکسین کینسر کے علاج میں مددگار

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) کوروناویکسین کے کینسر کے علاج میں مددگار ہونیکا نیا انکشاف سامنے آگیا۔کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایم آر این اے (MRNA)ویکسینز استعمال ہوتی آئی ہے،اب امریکی ماہرین کی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کینسر کے مریضوں کے لیے بھی یہ ویکسین فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے اور ان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناسکتی ہے۔امریکی ماہرین کی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ ویکسینز انسانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر جدید کینسر کے علاج کو مزید موثر بنا دیتی ہیں،اس ویکسین کے پراثر ہونے سے مریضوں کی زندگی کی مدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، کورونا کی ایم آر این اے ویکسینز کینسر کی بیماری کو کم یا ختم نہیں کرتی ،تاہم انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے جس سے ٹیومر اور کینسر سے لڑنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتا چلاہے کہ کورونا ویکسین لگوانے والے کینسر کے مریضوں کا لمبے عرصے تک زندہ رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے،ویکسین لگوانے سے خصوصی طور پر پھیپھڑوں یا جلد کے کینسر (میلانوما) کے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق کینسر کے مریض اگر علاج کے ابتدائی 100 دنوں کے اندر ایم آر این اے ٹیکنالوجی کی کورونا ویکسینز یعنی فائزر اور ماڈرنا کی ویکسینز لگوائیں گے تو ان کے تین سال بعد زندہ رہنے کا امکان تقریبا دگنا ہوسکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق کورونا ویکسینز کا کینسر کے وائرس یا انفیکشن کی روک تھام سے نہیں تعلق نہیں بلکہ یہ ویکسین کی ایم آر این اے ٹیکنالوجی سے جڑا ہے،ویکسین کی ایم آر این اے ٹیکنالوجی مدافعتی خلیات کو متحرک کر دیتی ہے اور کینسر کے خلیات پر حملہ کرنے میں مدد دیتی ہے، کورونا ویکسینز کینسر کے مخصوص خلیات کو ہدف بنانے کے بجائے مدافعتی نظام کو عام طور پر متحرک کر کے ٹیومرز کو کمزور بنادیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں