کوچ کو اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی آزادی دی جانی چاہیے’ گیری کرسٹن

لاہور (سپورٹس نیوز) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے قومی ٹیم کی کوچنگ کے دوران ہونے والے بڑے تجربے سے متعلق انکشاف کر دیا ہے۔جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے گیری کرسٹن جنہوں نے دو سال قبل کچھ عرصہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے اس مختصر عرصہ کے دوران ہونے والے تجربات سے متعلق انکشاف کر کے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے گیری کرسٹن نے کہا کہ انہیں پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کے دوران باہر سے غیر معمولی مداخلت اور بیرونی دباو کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کے لیے حالات اور کام کرنے کو بہت مشکل بنا دیا تھا۔سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ جب باہر سے مسلسل مداخلت اور دباو کا سامنا ہو تو کسی بھی کوچ کے لیے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد اور موثر انداز میں کام کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل، تادیبی اقدامات، مجموعی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ جب کہ کوچ کو جو ماحول ملتا ہے، اس میں کھلاڑیوں کے ساتھ واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد کرانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔گیری کرسٹن نے کہا ٹیم کی ناکامی پر سارا ملبہ کوچ پر گرانا اور اس کے اختیار محدود یا تبدیل کرنا مسئلے کا حل کبھی بھی نہیں ہوتا۔ اگر کسی کوچ کو ذمہ داری سونپی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں