1

کوکنگ آئل میں پکا کھانا صحت کے لیے خطرہ قرار

اسلام آباد(بیو رو چیف )ہمارے معاشرے میں کوکنگ آئل کے بغیر کھانے بنانے کا تصور تقریبا ناممکن سمجھا جاتا ہے، سبزی ہو یا گوشت، فرائی ہو یا بھونائی، ذائقے اور خوشبو کو بڑھانے کے لیے تیل کا استعمال عام ہے۔تاہم طبی ماہرین خبردار کیا ہے کہ تیل کا ضرورت سے زیادہ استعمال دل اور مجموعی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ تیل کھانے کو ذائقہ دار بنانے اور یکساں طور پر پکانے میں مدد دیتا ہے، مگر اس کی زیادتی متعدد بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔ خاص طور پر موجودہ دور میں دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ تیل کی ضرورت عمر، وزن، جسمانی سرگرمی اور عمومی صحت پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک صحت مند فرد کے لیے روزانہ تقریباً دو کھانے کے چمچ یعنی 25 سے 30 ملی لیٹر تیل کافی سمجھا جاتا ہے جبکہ ہفتہ وار مقدار تقریبا 150 سے 170 ملی لیٹر ہونی چاہیے۔یہ مقدار صرف کھانا پکانے میں شامل کوکنگ آئل کے لیے ہے۔ تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات اور پراسیسڈ فوڈ اس میں شامل نہیں کیونکہ ان میں پہلے ہی چکنائی زیادہ ہوتی ہے۔ضرورت سے زیادہ تیل کھانے سے جسم میں خراب کولیسٹرول بڑھتا ہے، جو دل کی شریانوں میں رکاوٹ، ہارٹ اٹیک اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ موٹاپا، پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک بار چربی جمع ہو جائے تو اسے کم کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ایک ہی تیل پر انحصار کرنے کے بجائے متوازن استعمال اپنایا جائے۔دل کی صحت کے لیے نسبتا بہتر سمجھے جانے والے تیل یہ ہیں ان کے مطابق زیتون کا تیل، سرسوں کا تیل، مونگ پھلی کا تیل، سورج مکھی کا تیل اور سویا بین کا تیل زیادہ فائدہ مند ہے۔ان میں موجود مونو سیچوریٹڈ فیٹس اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ دل کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ البتہ ماہرین کولڈ پریسڈ آئل کو ترجیح دینے کا مشورہ دیتے ہیں اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور تیل سے بچنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق گھی مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، لیکن اسے صرف کبھی کبھار اور محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں