کچھ باتیں، کچھ یادیں، اپنی ذاتی ڈائری سے

میرے رحیم’ کریم’ رحمان’ لجپال رب نے ستمبر 2006ء میں مجھے بیٹے جیسی عظیم ترین نعمت سے نوازا’ اس نعمت کے شکرانے کے طور پر میں نے اپنی سسرالی علاقے فاروق آباد کی نہر کے کنارے شہر سے دور دراز علاقہ میں موجود خستہ حال مسجد کو رنگ وروغن کروایا اور بڑی محبت سے اﷲ کے گھر کی تزئین وآرائش کروائی۔ رحمان’ مہربان اﷲ نے میری اس محبت کو قبول فرماتے ہوئے اپنی بے پناہ محبت سے نوازا اور میرے بیٹے محمد شاویز ریاض ملک کے سینے کو اپنی پیاری کتاب قرآن مجید فرقان حمید کے نور سے منور کرنے کا اپنا فیصلہ صادر فرما دیا، مگر مجھ ناچیز’ نکمے اور لاعلم کو عرصہ دراز تک اپنے اس عظیم ترین فیصلے سے بے خبر رکھا، وقت گزرتا گیا میں نے اپنے بیٹے محمد شاویز کو 4 سال کی عمر میں سکول داخل کروا دیا۔ سابق ایم پی اے چوہدری زاہد محمود گورائیہ صاحب کے سکول (سٹی کیڈٹ سکول جو اب سٹی ہائی سکول ہو گیا ہے) پیپلزکالونی نمبر1 چھوٹی ڈی گرائونڈ میں ابتدائی تعلیم کا آغاز ہو گیا، اس وقت میں عبداﷲ پور والے آبائی گھر میں رہائش پذیر تھا، اس کے کچھ عرصے بعد ہم سٹی کیڈٹ سکول کے پڑوس میں (چھوٹی ڈی گرائونڈ) کرایہ کے گھر میں شفٹ ہو گئے، محمد شاویز کی سکولنگ جاری رہی، اس دوران 2017ء میں پہلی مرتبہ میاں ضیاء الرحمن صاحب اور حافظ شفیق کاشف صاحب کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے گیا۔ روضہ رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کے دوران اچانک میرے دل میں یہ آرزو مچلی جو میری زبان پر آ گئی اور میں نے دعا مانگی کہ یا رب العزت میں آپ کے پیارے حبیب تاجدار مدینہ، مدنی کریم آقا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضر ہو کر آپ سے آپ کے فضل خاص کا طلب گار ہوں اور دعاگو ہوں کہ مجھے اس در سے میرے بیٹے محمد شاویز کو اپنی عظیم کتاب قرآن مجید فرقان حمید حفظ کرنے اور اس پر کاربند رہنے جیسی عظیم ترین نعمت سے نواز دیجئے۔ میں آئندہ سال اپنے اہلخانہ کے ہمراہ دوبارہ آپ کے گھر خانہ کعبہ اور آپ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دراقدس پر حاضری کا طلبگار ہوں اور میری دلی تمنا ہے کہ میرا بیٹا محمد شاویز باقی دیگر فیملی ممبران کے ساتھ موجود ہو اور آپ اسے درِمصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن پاک حفظ کرنے کی اجازت عنایت فرمائیں، رب کریم نے مجھ ناچیز کی دعا قبول کر لی اور ٹھیک 1سال بعد (2018ئ) میں اپنی بڑی ہمشیرہ’ اپنی اہلیہ’ اپنی بیٹی اور اپنے بیٹے کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے پہنچ گیا، سب سے پہلے ہم شہر مدینہ طیبہ آئے، ہوٹل میں سامان وغیرہ رکھنے کے بعد مسجد نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں نوافل پڑھے، نماز ادا کی اور جھولی اُٹھا کر خوب دعائیں مانگیں، اگلے روز مسجد نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں موجود ایک عربی معلم کو ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنا مدعا بیان کیا اور انہیں بتایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا محمد شاویز قرآن پاک کا حافظ وقاری بنے اور اس مقدس دھرتی سے اس کی تعلیم کا آغاز ہو، عربی معلم نے کمال شفقت کا مظاہرہ کیا، محمد شاویز کو اپنے پاس بٹھایا اس سے ناظرہ قرآن مجید سنا اور دعا فرمائی کہ اﷲ تعالیٰ اسے قرآن مجید فرقان حمید کا حافظ وقاری بنائے، ہم عمرہ کی ادائیگی کے دوران سعودی عرب میں ہی موجود تھے کہ محمد شاویز کے پانچویں کلاس کے سالانہ امتحان کا نتیجہ موصول ہو گیا، اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے محمد شاویز نے حسب سابق فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ بیٹی حرم کی بھی فرسٹ پوزیشن آئی، اس وقت ہم مسجد نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں موجود تھے جب دونوں بچوں کے فرسٹ پوزیشن میں پاس ہونے کی خوشخبری ملی اسی لمحے میں توفیق خداوندی سے فیصلہ کیا کہ اب واپس گھر جا کر محمد شاویز کو سکول بھیجنے کی بجائے مدرسہ میں قرآن مجید کے حفظ کیلئے داخل کروایا جائے گا۔ گھر واپس آتے ہی اس فیصلے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے صدیقیہ اسلامک سنٹر میں محمد شاویز کو حفظ قرآن کیلئے داخل کروا دیا۔ قاری محمد نصیر ہزاروی صاحب نے بڑی محبت’ توجہ کے ساتھ یہ مبارک سفر شروع کروایا، ابھی محمد شاویز نے قرآن مجید کے ساڑھے چار پارے حفظ کئے تھے کہ 2019ء میں رمضان المبارک کی مبارک سعادتیں آ گئیں، ہم نے اپنے گھر (228-A) میں نماز تراویح کا اہتمام کیا، محمد شاویز کے ساتھی محمد سعد کو اس کا سامع بنایا اور اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے محمد شاویز نے نماز تراویح میں قرآن مجید کی تلاوت کا آغاز کر دیا، اسی سال یعنی 2019ء میں رب کریم نے اپنے خاص فضل وکرم سے اسی علاقے چھوٹی ڈی گرائونڈ میں ہمیں اپنا ذاتی گھر ”مدنی ہائوس” دے دیا، مدنی ہائوس میں بھی ہم نے توفیق خداوندی سے گھر کے ایک فلور کا آدھا حصہ نماز کیلئے مختص کر دیا، 2019ء سے لیکر 2026ء کے اس رمضان المبارک تک حافظ محمد شاویز نماز تراویح میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ اس سعادت کا یہ مسلسل آٹھواں سال ہے، اﷲ رب العزت کی قسم، یہ رب کریم کا سب سے بڑا کرم ہے، فضل ہے، انعام ہے کہ بیٹا امام ہو اور باپ مقتدی ہو، مدنی ہائوس میں اپنے بیٹے حافظ محمد شاویز ریاض ملک صاحب کی امامت میں نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران جو روحانی سکون ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ مجھے اپنے کریم رب سے یہ قوی امید ہے کہ وہ میری لاج رکھے گا، میری دلی دعا کو پورا کرے گا اور میرے بیٹے حافظ محمد شاویز ریاض ملک کو اپنے پیارے حبیب محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد کی امامت کا شرف عطا فرمائے گا اور مجھے میرے بیٹے کی امامت میں وہاں پر سجدہ ریزی کی توفیق خاص بھی دے گا۔ رب کریم نے میری اس دعا کی قبولیت کی ایک جھلک گزشتہ سال 2025ء میں عمرہ ادائیگی کیلئے سفر حجاز مقدس کے دوران دکھا دی اور مجھ سمیت میری بیوی اور بیٹی کو حافظ محمد شاویز صاحب کی امامت میں مسجد نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں سجدہ ریزی کی توفیق سے نواز دیا۔2025ء کے اس مبارک سفر کے دوران مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ میں میری کوشش رہی کہ ہمیں جب بھی اور جس جگہ بھی نوافل کے علاوہ فرض نماز کیلئے وقت ملتا، میں اپنے بیٹے حافظ محمد شاویز کی امامت میں نماز ادا کرتا اور پھر اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے کریم رب سے اُس کا فضل مانگتا’ کرم مانگتا اور دعا کرتا کہ یااﷲ اسی طرح آپ مسجد نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں مجھے میرے بیٹے حافظ محمد شاویز کی امامت میں نماز پنجگانہ کی ادائیگی کا شرف عطا فرما دیجئے، میری یہ بھی دلی تمنا اور دعا ہے کہ مدنی کریم آقا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے درِاقدس پر میری زندگی کا سفر تمام ہو، میرا بیٹا حافظ محمد شاویز صاحب میری نمازجنازہ پڑھائے اور اپنے ہاتھوں سے جنت البقیع میں مجھے سپردخاک کرے۔ اس سے قبل اب دل اس چیز کیلئے بے قرار ہے کہ رب کریم اب میری باقی ماندہ زندگی کی سانسیں، میرا جینا مرنا، روزگار سرزمین مدینہ طیبہ میں لکھ دے، مجھے مدنی کریم آقا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دراقدس پر مستقل چوکھٹ عطا فرما دے، آمین ثم آمین۔ قارئین کرام سے خصوصی التماس ہے کہ وہ ماہ مقدس کی ان مبارک سعادتوں میں ہمیں بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں