70

کھڑکی، کرسی اور کرن……

تحریر… میاں محمد آصف
خوشبو کے تعاقب میں میں جس کرسی پر بیٹھتا ہوں وہ اس کھڑکی کے آگے بچھی ہے جہاں سے سورج کی پہلی کرن نشست گاہ میں داخل ہوکر صبح صبح روشنی اور حرارت کے سندیسے دیتی ہے جن سے دن چمکتااور رات دمکتی ہے – سچ تو یہ ہے کہ سارے میں پھیلی مہک اسی کرن کی ہے جو کھڑکی اور کرسی سے وابستہ و پیوستہ ہے – یہ کھڑکی میں ہی کھولتا ہوں ان ہاتھوں سے جو رات بھر اشتیاق بھرے رہتے ہیں-کرسی کی مہربان آغوش میں سماکر طلوع آفتاب کا نظارہ اور پہلی کرن کا استقبال داخل میں جو ہلچل مچاتا ہے میں خارج کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتا کہ کہیں شہرت سرمایہ لوٹنے نہ آ پہنچے- اب حسد وفخر کے جنجال کون پالے -پھر نامعلوم یہ نظارہ صداپرور ہے یا سکوت افزا کہ اس خاموشی میں دل ڈوبتا نہیں دھڑکتا ہے سانس رکتی نہیں رواں ہوتی ہے – دن کی کتاب تمام ہوتے ہی رات کا دیباچہ شام ،وقت کی صراحی میں گردش لیل ونہار کا ،اگلا قطرہ انڈھیلتا ہے تو پس انداز کی ہوئی کرن تشنگی کو بڑھا دیتی ہے
وجدان کی کھڑکی کھلی رہے تو یقین کے جہان اور گمان کے خلا کا فرق سمجھ میں آتا ہے – کرسی بے آرام نہیں کرتی اور کرن روشن رہتی ہے جس سے اپنوں کے درمیاں دھند میں بھی نظارہ کیا جاسکتا ہے یہی دید امید کا موسم ہے جب خالق ومخلوق میں پردے حائل نہیں رہتے عمارہ سے لوامہ کا سفر آسان ہوجاتا ہے اور مطمئنہ ناز سے نیاز میں ڈھلتے ہی نواز دیا جاتا ہے
آ کھڑکی کھولیں ، کرسی کی طرح بچھ جائیں اور کرن کی طرح سمٹ آئیں کہ تینوں کے انہماک کا تسلسل یقین کے آخری کنارے پر پورا چاند اور بھروسے کی انتہا پر بہت ہی روشن ستارہ ہے جو معیار جمال کی لطیف صنف اظہار بن کر احسا س جمال کو شعور جمال میں بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے – اس میں کیا کلام ہے کہ وجود محض نگاہ کا کرشمہ نہ رہے تو دل بجھنے کا حادثہ نہیں ہوتا اور جوش طلب میں رفاقت مہرباں اور محبت بیکراں ہو جاتی ہے – انسان جو بھی خواب اوڑھے ہوئے ہو اور جو بھی خیال پہنے ہوئے ہو مایوسیوں، ناکامیوں اور محرومیوں کی گردآنکھ کی سطح تک بلند نہیں ہونے دیتے – یوں حقیقی مسافتیں نظر نواز نظاروں میں بدل جاتی ہیں-زندگی کا ہرمنظر بادل بدست ، ہوا بداماں اور گل بکف ہو جاتا ہے
اے زمین وآسمان کے نور !ہم اگر آشوب زہدوتقوی کی ساعتوں کے طلسم کے تصرف اور غلب لذت کے سکت حیرت میں آ کر رہزن تمکین وہوش ہو جائیں اور ہمیں بدن کے باغوں میں ذائقوں کے پرندوں کی چہکار سنائی نہ دے تو ہمارے لیے در توبہ کھلا رکھنا کہ ہر لباس میں ننگ عار ہیں ہم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں