کیا پاکستان دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچا سکتا ہے؟

جب پوری دنیا ایران اور اسرائیل کی جنگ کو دیکھ رہی ہے اور ڈر رہی ہے کہ کیا یہ جنگ تیسری جنگِ عظیم ثابت ہو گی؟ آپ کو پچھلے چند دنوں سے جنگ کی خبریں تو مل ہی رہی ہوں گی کہ ایران نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر بمباری کی اور اس جنگ میں خود ایران نے بھی بہت نقصان اٹھایا۔ ایسے میں دنیا کی نظریں پاکستان پر بھی گڑی ہوئیں ہیں کہ پاکستان کس کا ساتھ دے گا؟ بہت سے لوگ جزباتی تجزیہ پیش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو ایران کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ وہ ہمسایہ اسلامی ملک ہے اور اکیلا یہودونثارا سے لڑ رہا ہے جب کہ کچھ لوگوں کا تجزیہ ہے کہ پاکستان کو ایران کی خاطر امریکہ اور عرب ممالک کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کی قیادت بھی کش مکش میں ہے کیوں کہ پاکستان کی زیادہ تر عوام کی ہمدردی ایران کے ساتھ ہے لیکن کیا پاکستان کو ایران کی خاطر اپنے سفارتی تعلقات کو خراب کرنا چاہیے؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کیسے اس جنگ کا فریق بنے بغیر یہ جنگ جیت سکتا ہے؟ مشرقِ وسطی کے جغرافیائی حالات اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر ہیں جہاں پرانی طاقتیں پیچھے ہٹ رہی ہیں اور نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔ دہائیوں سے امریکہ اور خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات ایک غیر اعلانیہ لیکن ٹھوس بنیاد پر قائم تھے: “تیل کے بدلے تحفظ”۔ لیکن آج جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی آگ پوری شدت سے بھڑک رہی ہے، واشنگٹن نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عرب سرزمین سے اپنے جدید ترین پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور دیگر دفاعی اثاثے نکال کر انہیں اسرائیل کی حفاظت کے لیے منتقل کرنے کے فیصلے نے ریاض اور ابوظہبی میں بے وفائی اور عدم تحفظ کی ایک گہری لہر دوڑا دی ہے۔ خلیجی ممالک کے لیے یہ محض ایک فوجی نقل و حرکت نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک صدمہ ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشکل گھڑی میں مغربی چھتری پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔امریکی پسپائی سے پیدا ہونیوالا یہ تزویراتی (strategic) خلا پاکستان کے لیے ایک ایسی سنہری کھڑکی کھول رہا ہے جو شاید صدیوں میں ایک بار نصیب ہوتی ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ اس کی افواج دنیا کی بہترین اور تجربہ کار ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والا “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” اس نئے سفر کا نقطہ آغاز ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان صرف تربیت تک محدود نہ رہے بلکہ خلیج کے دفاع کا “مرکزی ضامن” بن کر ابھرے ۔ پاکستان ان ممالک کو وہ “مکمل سکیورٹی پیکیج” فراہم کر سکتا ہے جس سے امریکہ نے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ ہماری میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون ڈیفنس سسٹم اور فیلڈ میں موجود ہزاروں تربیت یافتہ جوان خلیج کی فضائی اور زمینی حدود کو وہ تحفظ فراہم کر سکتے ہیں جو کسی بھی غیر یقینی صورتحال میں ان کا دفاع کر سکے۔اس کردار کا دوسرا اور اہم ترین پہلو سفارت کاری ہے۔ امریکہ اس وقت خطے میں ایک فریق بن چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ امن مذاکرات کے لیے اپنی ساکھ کھو بیٹھا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی حیثیت منفرد ہے۔ ہم سعودی عرب کے سب سے قابلِ اعتماد دفاعی پارٹنر بھی ہیں اور ایران کے ساتھ بھی ہمارے برادرانہ اور فعال تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ تہران اور ریاض دونوں کو ایک میز پر بٹھا سکے اور انہیں یہ باور کرائے کہ یہ جنگ پورے خطے کو راکھ بنا دے گی۔ ایک “مسلم قیادت میں امن اقدام” کے ذریعے پاکستان نہ صرف جنگ بندی کروا سکتا ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ مشرقِ وسطی کے مسائل کا حل واشنگٹن کے پاس نہیں بلکہ اپنوں کے پاس ہے۔یہ محض جذباتیت نہیں بلکہ ایک ٹھوس معاشی ضرورت بھی ہے۔ اگر پاکستان خلیج کا نیا “سکیورٹی آرکیٹیکٹ” بنتا ہے، تو اس کے بدلے میں ہمیں وہ معاشی استحکام مل سکتا ہے جس کے لیے ہم دہائیوں سے کوشاں ہیں۔ بڑے پیمانے پر دفاعی کنٹریکٹس، توانائی کی بلا تعطل فراہمی کی ضمانت اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب بڑے طاقتور کھلاڑی میدان چھوڑتے ہیں، تو وہی قومیں ابھرتی ہیں جو ہمت اور بصیرت دکھاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ ایک”مدد مانگنے والے ملک”کے تاثر کو خیرباد کہہ کر “تحفظ دینے والے ملک”کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ یہ خلیج میں ایک نئے سویرے کا آغاز ہو گا، جس کی قیادت پاکستان کے ہاتھ میں ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں