4

کیفین کا زیادہ استعمال دماغی اور اعصابی نظام پر مضر اثرات

آج کی تیز رفتار زندگی میں کیفین کو توانائی کا آسان حل سمجھ لیا گیا ہے۔ چائے، کافی، انرجی ڈرنکس اوربعض ادویات میں موجود کیفین وقتی طور پر چستی اور توجہ کا احساس تو دیتی ہے، مگر اس کیاصل قیمت دماغ اور اعصابی نظام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ مسئلہ کیفین کا استعمال نہیں، مسئلہ اس کاحد سے بڑھ جانا ہے، جسے ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔کیفین ایک محرک مادہ ہے جو دماغ میں ایڈینوسین نامی کیمیکل کو روکتی ہے۔ ایڈینوسین جسم کو آرام اورنیند کا پیغام دیتا ہے۔ جب یہ عمل بار بار دبایا جائے تو دماغ قدرتی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ ابتدا میںانسان خود کو متحرک محسوس کرتا ہے، مگر کچھ وقت بعد ذہنی تھکن، بوجھ اور سستی بڑھ جاتی ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ کیفین لی جاتی ہے اور یوں انحصار پیدا ہو جاتا ہے۔زیادہ کیفین بے چینی، گھبراہٹ اور اعصابی تنا کو واضح طور پر بڑھاتی ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہونا، ہاتھوں کاکانپنا، بلا وجہ اضطراب اور ذہنی دبا اس کے عام اثرات ہیں۔ بعض افراد میں چڑچڑاپن اور غصہ بھیبڑھ جاتا ہے، جو رویے اور تعلقات پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ یہ علامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اعصابینظام مسلسل دبا میں ہے۔نیند پر کیفین کا اثر سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دماغ کو روزانہ گہری نیند کی ضرورت ہوتی ہے تاکہاعصابی خلیات بحال ہو سکیں۔ رات کے وقت چائے یا کافی پینے سے نیند کا دورانیہ اور معیار دونوںمتاثر ہوتے ہیں۔ نیند کی کمی یادداشت کمزور کرتی ہے، سیکھنے کی صلاحیت گھٹاتی ہے اور فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہوتی ہے۔ طویل عرصے تک یہ کیفیت ڈپریشن اور اینزائٹی جیسے مسائل کو جنمدے سکتی ہے۔عام تاثر یہ ہے کہ کیفین توجہ بڑھاتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مسلسل زیادہ استعمال دماغ کومنتشر کرتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں توجہ کی کمی اور ذہنی بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔پڑھائی یا کام کے دوران ذہن ایک جگہ ٹھہرنے کے بجائے بار بار بھٹکنے لگتا ہے۔کیفین دماغ کے ڈوپامین نظام کو بھی متاثر کرتی ہے، جو خوشی اور اطمینان سے جڑا ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھدماغ قدرتی خوشی محسوس کرنے میں کمزور پڑ جاتا ہے اور انسان کو ہر معمولی کام کے لیے بھیکسی محرک کی ضرورت پڑنے لگتی ہے۔ یہی حالت ذہنی بے سکونی کو بڑھاتی ہے۔اعصابی دبا صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ جسمانی علامات کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ گردن اورکندھوں کا تنا، آنکھوں میں جلن، مسلسل تھکاوٹ اور سر درد دراصل دماغی بوجھ کے اشارے ہوتے ہیں۔ مائیگرین کے مریضوں میں کیفین بعض اوقات درد کو مزید بڑھا دیتی ہے۔کیفین ہارمونز کے توازن پر بھی اثر ڈالتی ہے، خاص طور پر اسٹریس ہارمون کورٹیزول پر۔ کورٹیزول کی مسلسل زیادتی ذہنی تھکن، یادداشت کی کمزوری اور موڈ میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ حاملہ خواتین میں زیادہ کیفین نہ صرف ماں کے اعصابی نظام بلکہ بچے کی دماغی نشوونما کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتی ہے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر فرد کا اعصابی نظام ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ معمولی مقدار میں بھی شدیداثرات محسوس کرتے ہیں۔ دوسروں سے موازنہ کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں تو زیادہ پی لیتا ہے، ایک بڑیغلطی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کیفین وقتی سہارا ہے، مستقل حل نہیں۔ بالغ افراد کے لیے محدود مقدار عموم ا محفوظسمجھی جاتی ہے، مگر انرجی ڈرنکس اور بے حساب استعمال خاص طور پر نوجوانوں کے لیے خطرناکہے۔ بہتر یہی ہے کہ توانائی کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی کو ترجیح دی جائے۔آخر میں صاف بات یہ ہے کہ ہم وقتی چستی کے لیے اپنی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دماغ کودھکیلنے کے بجائے اگر اسے آرام دیا جائے تو کارکردگی خود بہتر ہو جاتی ہے۔ کیفین کو عادت بنانا آسان ہے، مگر اس کی قیمت اعصاب اور ذہن کو ادا کرنی پڑتی ہے، اور یہ سودا کسی طور دانشمندانہ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں