کینیا آم کی برآمد بڑھانے کیلئے پاکستان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے،کرسٹین چیسا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کینیا یورپ کی آم کی برآمد بڑھانے کیلئے پاکستان کے تجربے ، ٹیکنالوجی اور متعلقہ مشینری سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ یہ بات کینیا کے محکمہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر کی ڈائریکٹر ہارٹیکلچر محترمہ کرسٹین چیسارو نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرح کینیا کی معیشت بھی زراعت پر مبنی ہے۔ کینیا کی 80فیصد آبادی زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہے جبکہ حکومت زرعی برآمدات کو بڑھانے کیلئے بین الاقوامی معیارات اپنانے کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کا ملک آم یورپ کو برآمد کرنا چاہتا ہے مگر فروٹ فلائی پر قابو پانے کیلئے اُسے پاکستان کے تجربہ سے فائدہ اٹھانا ہوگا اور اُن کے اس دورے کا مقصد خشک آم ، مینگو پلپ اور اس کی ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے پاکستانی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ متعلقہ مشینری خریدنے کا جائزہ لیناہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا بڑی مقدار میں آم پیدا کرتا ہے مگر اِس کی برآمد صرف 4-5فیصد ہے جبکہ 95فیصد آم مقامی طور پر استعمال ہوتا ہے حالانکہ اس کی شیلف لائف بڑھا کے اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات سے 140-160ملین ڈالر تک کمائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کینیا کے وفد کے پاکستان کاد ورہ کا اہتمام کرنے پر نیروبی میں پاکستانی سفارتخانے کی کاوشوں کو سراہا۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے قائم مقام صدر قیصر شمس گچھا نے پاکستان اور کینیا کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان چاول کی برآمد کے بدلے میں کینیا سے بڑی مقدار میں چائے اور کافی درآمد کرتا ہے۔ تاہم تجارتی حجم کینیا کے حق میں ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے زرعی پیداوار اور فوڈ سیکورٹی کے مسائل کا ذکر کیا اور کہا کہ اِن پر قابو پانے کیلئے جامعہ زرعیہ کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ سوال و جواب کی نشست کے دوران شیخ محمد فاضل نے کہا کہ پاکستان کینیا کے اشتراک سے پاکستان میں کانجو کی پیداوار پروسیسنگ کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا خواہاں ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ کینیا اپنے کسانوں کو آم کو خشک کرنے ، محفوظ بنانے اور اس کی ویلیو ایڈیشن کیلئے مشترکہ سہولت مہیا کرنا چاہتا ہے تاکہ اِس سے زیادہ سے زیادہ معاشی فائدے اٹھائے جا سکیں۔ اس سلسلہ میں پاکستانی مشینری کی درآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شرکا کو بتایا گیا کہ دو سال قبل ایوا کاڈو کو پروسیس کرنے کا ایک پلانٹ لگا یا گیا تھا جبکہ اس وقت نو سے زیادہ یونٹ کام کر رہے ہیں۔ آخر میں محترمہ کرسٹین چیسارو کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی پچاس سالہ تقریبات کے حوالے سے خصوصی پن لگائی گئی جبکہ انہیں چیمبر کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔ محترمہ کرسٹین چیسارو نے بھی قائم مقام صدر قیصر شمس گچھا کو کینیا کی اعلیٰ کوالٹی کی چائے اور کافی کا تحفہ دیا۔ کینیا کے وفد میں محترمہ میری مکمبوری اور مسٹر پیٹر مٹونگا کے علاوہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے رائو فضل الرحمن اور حافظ کامران بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں