68

گائوں سے شہر تک رشید احمد چوہدری کی انجینئرنگ

تحریر…خاور رندھاوا
سابق منیجنگ ڈائریکٹر واسا رشید احمد چوہدری کی خوبصورت دیہاتی وشہری یاد داشتوں پر مبنی آپ بیتی تقریبا ساڑھے پانچ دہائیوں کی رورل اور اربن حالات وواقعات کی فطری داستانوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور وہ زندگی کو جامد وساکت شے کی بجائے چلتی پھرتی ایک حقیقی داستان کو اسکے اصلی روپ میں دیکھنے کے عادی ہیں اور انہوں نے یہ فریضہ اور اثاثہ کسی بھی بناوٹ وتضع کے بغیر آئندہ نسلوں کو ٹرانسفر کرکے کامیاب زندگی کے فطری اصول بتا کر ثابت کردیا ہے کہ انسان 76سال کی عمر میں بھی زندگی سے خوب لطف اندوز ہوسکتا ہے”گائوں سے شہر تک”ان کی سوانح عمری میں وہ لکھنو شہر کی ادبی لطافت اور مسجی ومقفی گفتگو کی بجائے لگتا ہے جیسے دیہاتی ڈیرے پر سامنے بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے گفتگو کررہے ہیں فطری حالات سے مطابقت کا یہ حال ہے کہ2006میں تاریخ پیدائش پر شکست قبول کرکے15ماہ قبل ہی ریٹائرمنٹ پر چلے جاتے ہیں ۔چک نمبر124گ ب روڈی تحصیل جڑانوالہ کے پرائمری ومڈل سکولوں میں استاد کا مولا بخش(ڈنڈا)اور ڈسکے کا555 چاقو انہیں آج بھی یاد ہے ۔سردیوں میں دھوپ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر ایس ڈی او بننے کا خواب اور ٹین کے بناسپتی ڈبے کو کاٹ کر مچھلی پکڑنے سے پھر ان کی پیدائشی انجینئرنگ کا آغاز ہوتا ہے ڈنڈا ڈولی کے روایتی اور ثقافتی کھیل میں دونوں بہن بھائی اپنی چھوٹی ضدی بہن کوبازوں اور ٹانگوں سے پکڑ کرسکول لے جاتے ہیں سکول سے واپسی پر نہر لوئر گوگیرہ میں کود کرنہانے کا تجربہ ناکام ہوا تو زندگی پھر کیلئے ایک اصول وضع کرلیا کہ ”تیرنا نہ آتا ہوتو پانی میں چھلانگ نہیں لگانا چاہیے” پہلی سے لیکر بارہویں کلاس تک فرسٹ پوزیشن لینے والے انٹرمیڈیٹ میں کامیابی کے بعد گائوں میں آکر بڑے فخر سے گرگابی جوتے(مکیش)پہن کر زندگی پر فخر کرنا بھی جانتے ہیں یونیورسٹی آف انجینئر اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے سول انجینئرنگ پاس کرنے کے بعد 1969میں سی ڈی اے اسلام آباد میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئرنگ بھرتی ہوئے جہاں ایوان صدر اور اسمبلی سیکرٹریٹ کی تعمیر میں اپنی مہارتوں کا لوہامنوایا اور غیر ملکی ماہرین کیساتھ کام کرکے دیہاتی ہچکچاہٹ اور شرم وحیاپرقابو پالیا۔ 1976میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے محکمہ ہاسنگ وفزیکل پلاننگ میں ڈپٹی ڈائریکٹر بھرتی ہوگئے سرگودھا’فیصل آباد’ملتان اور ساہیوال میں کم آمدنی والے گھرانوں کو آسان شرائط پر رہائشی سہولتوں کی فراہمی کیلئے نئی بستیاں بھی اپنے ہاتھوں سے بسائیں ۔گریڈ 22میں ترقی پاکرایم ڈی واسا جنوری1997میں تعیناتی ہوئی تو1985سے جاری ترقیاتی سکیموں کو جمود سے نکال کر سیوریج’واٹر سپلائی اور ڈسپوزل کے درجنوں منصوبوں کو چالو حالت میں لے آئے شہر کی رنگینیوں میں کبھی بھی اپنے آپ کو گم نہ کیا بلکہ اپنی مضبوط جڑوں سے رشتہ ہمیشہ قائم رکھا ۔اور دن رات کوششوں سے اپنے گائوں کو جانیوالی کچی سڑک کو پکا کروایا اور گائوں میں سولنگ ونالیوں کے منصوبہ چوہدری نذیر احمد مرحوم سابق چیئرمین ضلع کونسل کی کوششوں سے مکمل کروایا گائوں میں سستی رہائشی کالونی بھی بنائی مختلف دھڑوں میں صلح کروانا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل ٹھہرا ۔پھر زندگی کے روزمرہ واقعات میں گڑوی اورجن’ناجو ڈاکو کا قتل اور اباجی کی پیشنگوئی کو برا سانپ سے ٹاکرا’سور سے بچنا’موکھی اور بھینسا’گراگر اور پلاٹ’جوگی سے ملاقات’لاہور اور ساہیوال ٹرین کاسفر’بڑے بھائی بشیر احمد’سرگودھا سے ملتان کا سفر میں ناڑے کوفین بیلٹ بنا کر سفر جاری رکھنا ایک پیدائشی انجینئر کا ہی کمال ہوسکتا ہے خربوزے ‘ٹیوب ویل اور ہم کے کتابی باپ میں زندگی کی چلتی پھرتی اٹھکیلاں ہماری دیہاتی زندگی کا خوبصورت پہلو اور فطری حسن ہیں ۔جس کے رشید احمد چوہدری نے خوب مزے اڑائے’نیلی کار’ڈاکو اور ہم کے واقع میں انہوں نے موت کو بڑے قریب سے دیکھا ہے گدھ اور سارس کا شکار میں اپنی بندوقوں کی ناکامی اور کامیابی دونوں کا ذکر بڑے مزے لیکر کرتے ہیں سردیوں کی ٹھٹھرتی سردی میں ماسٹر حمید شاہ گیلانی سے اپنے ہاتھوں پر ڈنڈے کھانے کے عمل کو وہ آج بھی نہیں بھولے جبکہ دفتری لائف میں اینٹی کرپشن کی کارروائیوں میں وہ اپنوں کی ہی سازشوں میں سرخروہوکر اس ابدی اصول کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں کہ سانچ کو کبھی بھی آنچ نہیں آتی۔
پاکستان کی ترقی کے باپ میں وہ محب وطن انجینئر کی حیثیت سے حکومت اور عوام کو ان کی ذمہ داریوں کے جو سنہری اصول بتاتے ہیں ان کو پاکستان کے آئین کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ یہی وہ سنہری اور دیسی اصول ہیں جن پر عمل کرکے ہی ملک وقوم کی بقا کو یقینی بنایاجاسکتا ہے بڑے شہری منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران رشید احمد چوہدری غیر ملکی ماہرین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی انجینئرگ کا لوہامنواتے رہے لیکن ایئرپورٹ پر ملکہ ترنم نورجہاں اور گلبرگ کے ہوٹل میں سامنے بیٹھی ہوئی معروف اداکارہ بابرہ شریف سے کبھی بھی ہم کلام ہونے کی جرات نہ کرسکے ۔کیونکہ خاندانی شرم اور دیہاتی وصفداری نے آج تک ان کی جان نہیں چھوڑی بقول غالب کہ
لٹا کر پہلو میں رات بھر غالب
جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں