گرانفروش بے قابو،مصنوعی مہنگائی سے شہری پریشان،ضلعی انتظامیہ اور پیرافورس خاموش

فیصل آباد(آن لائن) رمضان کا آغاز ہوگیامگر انتظامیہ مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، حکومت پنجاب کی ہدایات پر جاری فلور ملز کا تیارکردہ سستا آٹا غیر معیاری اور ناقص جبکہ فلور ملزکے اپنے تیار کردہ برینڈ آٹا مہنگاترین فروخت ہورہاہے، پنجاب فوڈ اتھا رٹی اور انتظامیہ مکمل خاموش ہے،اسطرح قصاب اور دودھ فروشوں کا انتظامیہ کے جاری نرخ نامے پر گوشت اور دودھ فروختکرنے سے انکاری ہیں،اگرگوشت کی قیمتیں کنٹرول نہ ہوسکیں تو عید پر مزید مہنگاہونے کا خدشہ،جبکہ بکرے کاگوشت،دودھ،دہی اور پھل سمیت دیگر اشیا کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں،ضلع بھر میں گوشت، دودھ پھل وسبزی فروشوں نے بھی اپنے اپنے ریٹ مقرر کررکھے ہیں، چینی کی قیمت بھی کم نہ ہوسکی،کھلا آٹا130روپے،چینی150روپے، دودھ 220سے 260، دہی 240سے 260روپے،گائے کا گوشت 1200سے 1300روپے فی کلو اور بکرے کا گوشت 2400سے 2600روپے کلو فروخت ہورہاہے،سیب 500روپے کیلا200سے 300روپے درجن،انار اور کینو بھی مہنگا ہوگیا،منافع خوروں کے سامنے ڈویژنل، ضلعی انتظامیہ اور پیرا فورس بے بس، انتظامیہ کی خاموشی، عوام سراپہ احتجاج’ آن لائن کے مطابق پاکستان کے تیسر ے اور پنجاب کے دوسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں ڈویژنل وضلع انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پرا ئس کنٹرول کا نظا م مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، ما رکیٹو ں، با زاروں،دکا نوں،ریڑھیوں اور پتھا روں پر اشیا ئے ضروریہ کی قیمتیں آسما ن سے با تیں کر رہی ہیں،جبکہ ریٹ لسٹ پر کہیں بھی عملدرآمد نظر نہیں آتا،موجودہ دنوں میں سبزیوں کی قیمتیں کم جبکہ پھلوں کی قیمتوں میں سب سے زیا دہ اضا فہ ہوا ہے، اگر بات کی جائے گندم کی توحکومت پنجاب کی جانب سے گندم کا ر یٹ 3500روپے مقررہونے پر منافع خورواور ذخیر اندوز نے گندم کی قیمتوں میں اضافہ کردیاہے اب اوپن مارکیٹ میں گندم 4700روپ فی من کردی گئی ہے اور ساتھ ہی آٹے کی قیمتوں بھی اضافہ کردیاگیاہے جس کی وجہ سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ آٹا پرچون ریٹ میں 130روپے کلو فروخت ہورہا ہے، فلور ملز کا حکو مت کی جا نب سے جاری کر دہ سستاآٹا ناقص اور غیر معیاری ہے، جبکہ انہی فلور ملز کے اپنیبرینڈ کا تیارکردہ آٹا مہنگے دا موں فروخت ہورہا ہے، ا س طرح شہر بھر میں دودھ فروشوں کے بھی اپنے اپنے ہی ریٹ ہیں ضلع بھر بھی 140روپے سے 260روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے دہی 180سے 260روپے فی کلوجبکہ ضلعی انتظامیہ اپنے ہی جاری ریٹ پر 850روپے بیف اور1600روپے مٹن کی قیمتوں پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طو پر ر ناکام ہوچکی ہے،شہر بھرمیں بیف 1250روپے،مٹن 2400روپے کلو تک فروخت ہورہاہے، قصاب سرکاری ریٹ پر گوشت فروخت کرنے پر تیار نہیں ہیں, شہر یو ں کے لئے برائلر مرغی کے ساتھ گو شت کھا نا بھی مشکل ہو گیا اگر یہ ہی صورت حا ل رہی تو عید پر گوشت کھا نا مشکل ہو جائے گا، جو کہ لمحہ فکریہ ہے، چند روز میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے گلی محلوں میں چینی 150روپے میں فروخت ہورہی ہے دال چناسمیت دیگر دالیں بھی مہنگی ہوگئیں، اگر بات کی جا ئے اچھے چال کی تو سرکاری نرخ کے مطابق باسمتی سپرکرنل 255سے 265روپے فی کلو مقررکیا گیامگر مارکیٹ میں اس کی قیمت 340سے380روپے فی کلو فروخت ہورہے ہیں،گرا نفروشوں نے شہریوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے، مہنگا ئی کی لہر کا آغازسبز منڈی اور غلہ منڈی سے ہو تا ہے جہاں س سے پہلے ہو ل سیلرز بھاری منا فع وصول کرتے ہیں،اس کے بعد آڑھتی،پھر پھڑئیے اور آخر میں دکا ندار یا ریڑھی با ن اپنی جیب بھرتے ہیں،یو ں تما م بو جھ عا م شہری کی جیب پر پڑتا ہے، عا م شہری اپنی مرضی سے نہیں بلکہ جیب دیکھ کر سبزی چنتا ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظا میہ کے پا س ڈپٹی کمشنر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنر ز، پرا ئس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس مو جو د ہو نے کے با وجود اگر سبزی جیسی بنیادی ضرورت بھی عوام کی پہنچ سے دور ہے ،تو یہ انتظا میہ کی کمزو گرفت اور نا کا می کامنہ بو لتا ثبو ت ہے، ما ر کیٹ کمیٹی کی جا ب سے ریٹ لسٹ جا ری کرتے وقت بھی منڈی کی نیلا می کومد نظر نہیں رکھا جا تا اور ریٹ لسٹ جا ری ہو نے کے بعد اس پر کہیں عملدرآمد ہو تا نظر نہیں آتا،شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجا ب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگا ئی پر قابو پا نے کو اپنی پہلی تر جیح بنا ئیں،علاوہ ازیں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالکان و ڈرائیور عملہ نے اپنے ہی خود ساختہ کرائے طے کر رکھے ہیں جن کی بدولت عوام سے لوٹ مار کی جارہی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے تیل کی قیمتوں میں ملکی و عالمی سطح پر روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ بس ویگن و دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے کرائے آئے روز بڑھ رہے ہیں آسمان کی بلندیوں جو چھو رہے ہیں ملکی بیروز گاری کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب کرایہ کے حساب سے کرایوں میں کمی کی جائے، انجمن تاجران موٹر مارکیٹ جھنگ روڈ فیصل آباد کے چیئرمین سرپرست اعلیٰ سابق ایگزیکٹو ممبر ایف سی سی آئی میاں محمد افضل آف ٹوبہ، ایگزیکٹو ممبر ایف سی سی آئی و چیئرمین حاجی محمد اصغر،صدر حاجی راشد نجمی، وائس چیئرمین میاں عمراقبال،لالہ دلدار حسین،سابق ایگزیکٹوممبر ایف سی سی آئی مقصود بٹ ،را نا امجد ودیگر نے مہنگائی اور حا لیہ پٹرولیم مصنو عا ت کی قیمتوں میں اضا فہ پر تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ آئے روز پٹرو لیم مصنو عا ت کی قیمتو ں میں اضا فہ سے مہنگا ئی میں اضا فہ ہو رہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام کے ساتھ زیادتی کاواضح ثبوت ہے، یہ اقدام غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی اور معاشی قتل عام کے مترادف ہے،انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات براہِ راست اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر منتقل ہوتے ہیں۔ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کے لیے یہ فیصلہ ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں پٹرول کی قیمتیں کم ترین سطح پر آچکی ہیں جبکہ ہماری حکومت لیوی ٹیکس اور ایڈجسٹمنٹ کے نام پر قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے مکمل سرنڈر ہو گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے راہنمائوں نے اس ظالمانہ فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں