گردے کی پتھری کی علامات اور وہ غذائیں جو اس کا موجب بن سکتی ہیں

اسلام آباد (بیوروچیف) جگر پر چربی چڑھنے کا عارضہ دنیا بھر میں ایک بڑا طبی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ناقص غذا، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے اور میٹابولک عدم توازن کو اس مرض سے منسلک کیا جاتا ہے۔عام طور پر اس کے علاج کے لیے جسمانی وزن میں کمی اور ورزش پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔مگر جرنل سیل میٹابولزم میں شائع تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ فائبر کی ایک قسم مزاحمتی نشاستہ سے بھرپور غذاں کا استعمال جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔رات کے کھانے کا وقت آپ کو کس مرض سے بچانے یا اس کا شکار بنانے میں کردار ادا کرتا ہے؟اسی طرح اگر آپ اس عارضے کے شکار ہیں تو جگر پر چربی کی سطح میں چند ماہ کے دوران 50 فیصد تک کمی آتی ہے۔سبز کیلوں، آلوں، پھلیوں، بیجوں، جو اور چاول وغیرہ میں یہ غذائی جز کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 200 افراد کو شامل کیا گیا گیا تھا جن کو 4 ماہ کے لیے ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنا کر دیکھا گیا کہ مخصوص غذاں کے استعمال سے جگر پر چربی کی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔محققین کی توجہ مزاحمتی نشاستہ پر مرکوز تھی جو ہضم ہوئے بغیر چھوٹی آنت سے گزر جاتا ہے اور صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کی غذا بنتا ہے۔ٹرائل میں شامل نصف افراد کو 4 ماہ تک مزاحمتی نشاستہ سے لیس غذاں کا استعمال کرایا گیا جبکہ دیگر کو معمول کی غذا استعمال کرائی گئی۔4 ماہ بعد محققین نتائج دیکھ کر حیران رہ گئے۔مزاحمتی نشاستہ والی غذاں کا استعمال کرنے والے افراد کی جگر پر چربی کی سطح میں 25 فیصد سے گھٹ کر 13 فیصد رہ گئی، یعنی لگ بھگ 50 فیصد کمی آئی۔اس کے مقابلے دوسرے گروپ کی چربی مں صرف 3 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ غذائی عادات جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے بچنے یا اس سے نجات پانے کے لیے بہترین ثابت ہوسکتی ہیں۔واضح رہے کہ جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ایک دائمی عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے۔عام طور پر اس بیماری کے لیے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی عام ترین قسم ہے۔اس بیماری کے دوران جگر بہت زیادہ مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج نہ ہو تو اس کے افعال تھم جاتے ہیں۔جگر کی اس بیماری کے نتیجے میں میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔صحت مند جگر میں چربی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اس میں معمولی اضافے کو بھی بیماری تصور کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں