گرین شرٹس 2025ء میں بدترین ڈیتھ اوورز بائولنگ ٹیم بن گئی

لاہور (سپورٹس نیوز) سال 2025 میں پاکستان کا پیس بائولنگ اٹیک سنگین سوالات کا سامنا کر رہا ہے جب کہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رئوف اور نسیم شاہ سبھی بین الاقوامی میدان میں اپنی شناخت بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ خاص طور پر پریشان کن بات یہ ہے کہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ڈیتھ اوورز (اوور 46-50) میں پاکستان کی بائولنگ لائن اپ ناکامی کا شکار ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اعدادوشمار ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں، پاکستان کے بائولرز نے چھ اننگز میں حیران کن طور پر 12.03رنز فی اوور دیئے ہیں۔ یہ جنوبی افریقہ (11.86)اور انگلینڈ (10.63)کے علاوہ تمام بڑے کرکٹ ممالک میں سب سے زیادہ اکانومی ریٹ ہے۔ ڈیتھ اوورز میں پاکستان کی بالنگ ایوریج 32.42 ہے یعنی وہ نہ صرف رنز لیک کر رہے ہی بلکہ وکٹ لینے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ان کا سٹرائیک ریٹ 18.17ہے جبکہ افغانستان (8.67)اور نیوزی لینڈ (12.63) جیسی ٹیموں کے مقابلے میں اب بھی سب سے خراب نہیں ہے جو اننگز کو ختم کرنے میں کہیں زیادہ موثر ثابت ہوئی ہیں۔اس کے برعکس نیوزی لینڈ اور انڈیا جیسی ٹیموں نے بالترتیب 8.14 اور 7.82 کی اکانومی ریٹ کے ساتھ ڈیتھ اوورز میں قابل ذکر کنٹرول دکھایا ہے۔ ان کی بالنگ پرفارمنس کا براہ راست تعلق ان کے شاندار ٹیم کے نتائج سے ہے جو حالیہ مہینوں میں بھارت کی چیمپئنز ٹرافی کی جیت اور پاکستان کے خلاف نیوزی لینڈ کی بظاہر مسلسل بالا دستی سے نمایاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں