گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب کا خدشہ

پشاور (بیوروچیف) خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے شمالی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب آ سکتا ہے۔خیبر پختونخوا کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کل سے شروع ہونے والے درجہ حرارت میں اضافے کے سلسلے کے پیش نظر صوبے کے شمالی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے سے ممکنہ سیلابی صورتحال سے خبردار کیا ہے۔ خیبرپختونخوا پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے نشاندہی کی کہ سیلابی صورتحال سے جن اضلاع کو زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے ان میں چترال، اپر دیر، سوات اور کوہستان شامل ہیں۔گلیشیئر برسٹ یا گلیشیئر لیک آٹ برسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) سے مراد گلیشیائی جھیل سے پانی کا اچانک بہہ نکلنا ہے جو نشیب کی طرف شدید سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔گزشتہ سال اگست میں، گلیشیائی جھیل کے پھٹنے (پانی کے اچانک بہہ نکلنے ) سے اپر چترال ضلع کے ایک گاں میں سیلاب آیا تھا، جس سے 30خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چترال اور گلگت بلتستان میں تقریبا 10ہزار گلیشیئرز موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پگھل رہے ہیں، واضح رہے کہ پاکستانی حدود میں 13032گلیشیئرز پائے جاتے ہیں، قطبی علاقوں سے باہر گلیشیئرز کا یہ سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔خیبرپختونخوا پی ڈی ایم اے نے متعلقہ انتظامیہ کو کسی بھی صورتحال میں فوری اقدامات کرنے اور زیادہ خطرے والے علاقوں کی آبادی کو الرٹ کرنے کی ہدایت کی ہے، ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی اطلاع 1700 پر دیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشنز سینٹر مکمل طور پر فعال ہے جبکہ ایمرجنسی سروسز اور ریسکیو اہلکار چوکس اور ہنگامی آلات اور دستیاب وسائل کے ساتھ پیشگی طور پر تیار رہیں۔صوبائی پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں