44

گندم ذخیرہ کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ (اداریہ)

مون سون کی شدید بارشوں’ بدترین سیلاب کے باعث اشیاء خوردونوش کی نقل وحمل میں تعطل’ اجناس خصوصاً گندم کی مصنوعی قلت کے باعث اس کے نرخوں میں اضافہ کا رجحان جاری ہے جس کے بعد پنجاب حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے گندم کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں گندم کے اسٹاک ڈی کلیئر کرنے کیلئے تین دن کی مہلت دی ہے تین یوم گزرنے کے بعد گندم ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کی جائے گی وزیراعلیٰ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے صورتحال کا فائدہ اٹھانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں بعض عناصر گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمام ممکنہ وسائل استعمال کر کے گندم کے غیر قانونی اسٹاک کی نشاندہی کی جائے وزیراعلیٰ نے کہا صوبے میں گندم کے اسٹاک کی درست طور پر نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور گندم اور آٹے کے نرخ برقرار رکھنے کیلئے ضروری اقدامات کا حکم دیا وزیراعلیٰ نے پیرافورس کو صوبے بھر میں مسلسل چیکنگ اور کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور ہر دکان پر سرکاری نرخنامہ آویزاں کرنے کا حکم دیا جس کی خلاف ورزیٰ پر کارروائی ہو گی وزیراعلیٰ نے خانیوال میں سیلاب سے گندم ضائع ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا سیلاب کے دوران گندم کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل نہ کرنے پر ڈی جی فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا سیلاب سے گندم کے ضیاع پر خانیوال کے ڈی ایس سی سمیت تمام عملہ کو معطل کر دیا گیا،، ملک میں سیلابی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے ذخیرہ اندوز سرگرم ہو چکے ہیں جن کو وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے اپنے سٹاک تین دن میں ڈیکلیئر کرنے کی مہلت دی گئی ہے اس دوران جو دکان دار یا تاجر حکومت کی ہدایت پر اپنے پاس ذخیرہ کی گئی گندم کے بارے میں آگاہ کریں گے ان کو حکومت پنجاب قانونی طریقہ اختیار کرنے کا موقع فراہم کرے گی جبکہ گندم’ چاول’ دیگر اشیائے خورد کو منافع خوری کیلئے ذخیرہ کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کر دے گی بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک خاص طبقہ قدرتی آفات یا مختلف وجوہات کی بنا پر اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اسے مارکیٹ میں منہ مانگے داموں فروخت کرنے کیلئے موقع کی تلاش میں رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس طبقہ کی تجوریاں بھرتی رہتی ہیں جبکہ عام آدمی کا بجٹ شدید متاثر ہوتا اور غریب آدمی ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے کسی سے مانگ تانگ کر اپنا گزارہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ملک کی موجودہ صورتحال میں بھی وہی طبقہ پھر سے سرگرم ہے اور گندم سمیت دیگر اشیاء کو گوداموں میں ذخیرہ کر رہا ہے تاکہ سیلاب کے ختم ہونے کے بعد گندم کو منہ مانگے داموں فلور ملز اور آٹا چکی مالکان کے ہاتھ فروخت کر سکے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ میں گندم کی غیر قانونی نقل وحمل اور اسکو ذخیرہ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر صوبہ میں گندم کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی تو ذخیرہ اندوزوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ہو گی وزیراعلیٰ نے خانیوال میں محکمہ فوڈ کے ذمہ داروں کی غفلت کے باعث گندم خراب ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ڈی جی ایف سی اور عملہ کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا ہے جو اچھا اقدام ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ بھاری تنخواہیں لینے والے افسران اور ان کا ماتحت عملہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا ایسے غیر ذمہ داروں کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی وقت کا تقاضا ہے تاکہ آئندہ کسی کو بھی غفلت کا موقع نہ مل سکے وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہیے کہ محکمہ فوڈ کے اعلیٰ افسران کو ہدایت جاری کریں کہ سیلابی صورتحال کے دوران صوبہ بھر کے تمام گندم کے گوداموں کی مکمل حفاظت کی جائے تاکہ گندم کو نقصان نہ پہنچے جبکہ گندم کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں کر کے گندم ضبط کر کے اسے عام مارکیٹ میں فروخت کیا جائے تاکہ آٹے کی قلت کا خدشہ نہ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں