گوبھی کی پیداوار میں50فیصد اضافہ ہوگیا

تیانجن (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں چینی گوبھی کی کاشت سے پیداوار میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا، تیانجن سائنسدانوں نے مقامی موسم کے مطابق بیج تیار کیے، ایس سی او رکن ممالک میں چینی گوبھی کی کاشت تیزی سے بڑھنے لگی۔چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق چین کے شہر تیانجن سے 4000کلو میٹر دور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک مقامی کسان محمد نے مسکراتے ہوئے اپنے کھیت میں کٹی ہو ئی گوبھی کی طرف اشاعہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی گوبھی کے بیج سستے ہیں،ان کا معیار اور پیداوار بہت اعلیٰ ہے،ہر فصل کے سیزن میں آمدنی پچاس فیصد تک بڑھ گئی ہے،ہمارے مقامی بیچ فروش نے اعلیٰ معیار اور پیداوار کا وعدہ کرتے ہوئے ہمیں یہ چینی گوبھی کے بیج دیے تھے،میں نے ایک کھیپ آزمائشی طور پر خریدی، واقعی حیران کن نتائج حاصل ہوئے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابقماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے 90 فیصد گوبھی کے بیج درآمد کیے جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر حصہ اب چین سے آ رہا ہے۔ ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ویجیٹیبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سائنس آفیسر محمد مظفر رضا نے کہا کہ “پاکستان کو ہائبرڈ بیجوں کی اشد ضرورت ہے، اور چین نسبتاً سستے اور معیاری بیج فراہم کر رہا ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابقایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ (AARI) کے ویجیٹیبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سائنس آفیسر محمد مظفر رضا نے کہاپاکستان میں 90 فیصد سے زائد گوبھی کے بیج درآمد کیے جاتے ہیں، ہمیں ہائبرڈ اقسام کی سخت ضرورت ہے اور اب چین اس مارکیٹ میں سب سے آگے ہے کیونکہ وہ نسبتاً سستے بیج فراہم کرتے ہیں۔ ان کی بات کی توثیق معروف کسان فرمان خان نے بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے چینی اقسام لگانا شروع کی ہیں، ہماری آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق پاکستان میں گوبھی ایک اہم سبزی سمجھی جاتی ہے، مگر مقامی اقسام کی پیداوار کم اور نشوونما کا دورانیہ طویل ہوتا ہے، جبکہ جدید ہائبرڈ اقسام پر مغربی ترقی یافتہ ممالک کی اجارہ داری ہے۔ تاہم، تیانجن سے آنے والے اعلیٰ معیار کے گوبھی کے بیج پاکستان میں جڑ پکڑ چکے ہیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کاشتکاری مشکل ہونے پر، زیادہ سے زیادہ پاکستانی کسان چینی سبزیوں کے بیج آزمانے لگے، کیونکہ وہ سنتے آئے تھے کہ یہ بیج زیادہ پیداواری، موسمی مزاحمت والے، اور شدید موسمی حالات کے مطابق ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق2019 میں، تیانجن اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے گوبھی کا دنیا کا پہلا جینوم سیکوینسنگ مکمل کیا، اور چین کو گوبھی کی تحقیق میں سرفہرست مقام حاصل ہوا۔ چین کی قومی گوبھی بریڈنگ کے چیف سائنٹسٹ اور تیانجن ویجیٹیبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے محقق، سن ڈی لنگ کے مطابق، ان کی ٹیم نے ملکی طلب پوری کرنے کے بعد بین الاقوامی منڈیوں کا رخ کیا۔ 2010 سے وہ پاکستان، بھارت، ویتنام اور دیگر ممالک کے دورے کر چکے ہیں تاکہ مقامی موسمی حالات کے مطابق اقسام تیار کی جا سکیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق سن نے کہا پاکستان میں شدید گرمی کے علاوہ، زمین کی ساخت بھی پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں مختلف مائیکروکلایمٹ موجود ہیں۔ دو مقامات، جو چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں، ان کا موسم بھی یکساں نہیں ہوتا، اس لیے ہدفی بریڈنگ پر زور دینا ضروری ہے۔ پاکستانی ماہرین کے ساتھ قریبی تعاون کے بعد، چینی ٹیم نے ایسی اقسام تیار کیں جو کم وقت میں تیار ہوتی ہیں، وزن میں زیادہ، موسمیاتی دباؤ کی مزاحمت رکھتی ہیں اور جنوبی ایشیا کے موسمی حالات کے مطابق ہیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق سن نے بتایااب تک ہم نے پاکستان، ویتنام، فرانس سمیت 10 سے زائد ممالک میں ڈیمونسٹریشن بیس قائم کیے ہیں، جہاں 800 سے زائد اقسام کی آزمائش کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں