140

”گوتم کا آخری وعظ”

تحریر…اسلم انصاری
مرے عزیزومجھے محبت سے تکنے والو
مجھے عقیدت سے سننے والو
مرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنیا بسانے والو
مرے الم آفریں تکلم سے انبساطِ تمام کی لازوال شمعیں جلانے والو
بدن کو تحلیل کرنے والی ریاضتوں پرعبور پائے ہوئے،سکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو
حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھنے والو، عزیز بچو، میں بجھ رہا ہوں
مرے عزیزو، میں جل چکا ہوں
مرے شعورِ حیات کا شعلہ جہاں تاب بجھنے والا ہے
مرے کرموں کی آخری موج میری سانسوں میں گھل چکی ہے
میں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگیا ہوں
تو سن رہے ہو، مرے عزیزو، میں جا رہا ہوں
میں اپنے ہونے کا داغ آخر کو دھو چلا ہوں
کہ جتنا رونا تھا، رو چلا ہوں
مجھے نہ اب انت کی خبر ہے، نہ اب کسی چیز پر نظر ہے
میں اب تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ نیستی کے، سکوتِ کامل کے
جہلِ مطلق، (کہ مطلق ہے)، جہلِ مطلق کے
بحرِ بے موج سے ملوں گا تو انت ہوگا
اس التباسِ حیات کا، جو تمام دکھ ہے !!
میں دکھ اٹھا کر، مرے عزیزو، میں دکھ اٹھا کر
حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھ گیا ہوں: تمام دکھ ہے
وجود دکھ ہے، وجود کی یہ نمود دکھ ہے
حیات دکھ ہے، ممات دکھ ہے
یہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے
شعور کیا ہے ؟ اک التزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے
جدائی تو خیر آپ دکھ ہے، ملاپ دکھ ہے
کہ ملنے والے جدائی کی رات میں ملیں ہیں، یہ رات دکھ ہے
یہ زندہ رہنے کا، باقی رہنے کا شوق، یہ اہتمام دکھ ہے
سکوت دکھ ہے، کہ اسکے کربِ عظیم کو کون سہہ سکا ہے
کلام دکھ ہے، کہ کون دنیا میں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے
یہ ہونا دکھ ہے، نہ ہونا دکھ ہے، ثبات دکھ ہے، دوام دکھ ہے
مرے عزیزو تمام دکھ ہے!
مرے عزیزو تمام دکھ ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں