ہارٹ اٹیک سے قبل ظاہر ہونیوالی4بڑی علامات

کراچی ( بیو رو چیف )ایک تحقیق میں ماہرین امراض قلب نے دل کے دورے ہارٹ اٹیک’فالج اور ہارٹ فیل سے پہلے ظاہر ہونے والی چار اہم انتباہی علاماتعلامات کی نشاندہی کی ہے۔حالیہ بین الاقوامی اس تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق، تقریبا ً99.6 فیصد مریضوں میں ان میں سے کم از کم ایک خطرناک علامت ضرور پائی گئی۔یہ تحقیق امریکی اور جنوبی کوریائی ماہرین نے مشترکہ طور پر کی۔ اس میں جنوبی کوریا کے 93 لاکھ سے زائد افراد اور امریکہ کے 6 ہزار 800 سے زیادہ بالغ افراد کے صحت کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے دوران ماہرین نے دل کی بیماریوں سے منسلک چار بنیادی خطرے کے عوامل کی نشاندہی کی، جو درج ذیل ہیں۔ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون)،کولیسٹرول کی زیادتی،خون میں شوگر کی بلند سطح،سگریٹ نوشی،نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فینبرگ اسکول آف میڈیسن کے ماہر امرض قلب ڈاکٹر فلِپ گرین لینڈ کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ دل کے دورے یا دیگر امراضِ قلب میں مبتلا ہونے سے پہلے تقریبا ہر مریض کو ایک یا زیادہ بڑے خطرے والے عوامل کا سامنا ہوتا ہے۔ڈاکٹر گرین لینڈ کے مطابق، اب توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ان قابلِ علاج خطرات کو قابو میں رکھنے کے موثر طریقے تلاش کیے جائیں، نہ کہ ایسے نئے عوامل ڈھونڈے جائیں جن کا علاج مزید مشکل ہو جائے۔ماہرین نے بتایا کہ چونکہ تحقیق میں شامل ہر فرد کی صحت کی مکمل جانچ کی گئی تھی، اس لیے وہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، شوگر اور سگریٹ نوشی سے جڑے خطرناک نمونوں کو سالوں پہلے ہی شناخت کرنے میں کامیاب رہے۔اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جب ان معلومات کو ڈاکٹروں کے تشخیصی معیار کے مطابق پرکھا گیا، تو 90 فیصد سے زائد مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے کے وقت کم از کم ایک خطرے کی علامت پہلے سے موجود تھی۔تحقیق میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ یہ تمام عوامل دراصل دل کی بیماریوں کے لیے ایک پیشگی انتباہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر لوگ ان علامات کو وقت پر سنجیدگی سے لیں اور اپنی زندگی کے معمولات، غذا اور عادات میں بہتری لائیں تو وہ مستقبل میں دل کے امراض سے بہت حد تک بچا حاصل کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں