63

ہتک عزت بل پر صحافی برادری میں بے چینی کی لہر (اداریہ)

پنجاب اسمبلی میں ہتک عزت بل کی منظوری کے بعد گورنر نے بل پر دستخط سے انکار کر دیا سردار سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر ہتک عزت بل پر دستخط نہیں کروں گا گزشتہ روز صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران نے ملاقات کی جس کے دوران صحافتی نمائندوں نے ہتک عزت بل 2024بارے گورنر پنجاب کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ملاقات کرنے والوں میں صدر سی پی این ای ارشاد عارف سیکرٹری پی ایف یو جے ارشد انصاری’ طارق محمود ودیگر شامل تھے گورنر پنجاب نے ہتک عزت بل پر مزید مشاورت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ شقوں پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا،، ہتک عزت بل نے صحافتی تنظیموں میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس پر صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی صحافت کو زنجیر سے باندھنے کی کوشش جتنے بُرے وقت سے آج صحافی گذر رہے ہیں شائد اتنی پابندیاں ڈکٹیٹرشپ کے علاوہ کبھی لگی ہوں! ہتک عزت کے قانون پر تنقید کی جائے تو محبان مسلم لیگ فوری طور پر فتویٰ جاری کر دیتے ہیں کہ یہ شخص فیک نیوز کا طرفدار ہے اور افواہ سازی کا خواہاں ہے حکومتی وزراء کے خیال میں خوامخواہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں لہٰذا اس کو روکنے کیلئے ہتک عزت بل کی ضرورت پڑی،، ہتک عزت بل 2024 کی منظوری کے بعد پنجاب میں کہرام مچا ہوا ہے کراچی’ لاہور’ راولپنڈی’ اسلام آباد کی صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے’ فیصل آباد پریس کلب میں ایک سیمینار ہو رہا ہے جس میں فیصل آباد کی صحافتی تنظیموں کے نمائندگان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف قرارداد پیش کریں گے مقامی صحافیوں نے ہتک عزت بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صحافیوں کی زبان کی تالابندی نہیں کر سکتی اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، پنجاب حکومت کسی بھی قسم کی مشاورت کے بغیر طاقت کے زور پر ہتک عزت بل کی منظوری دی ہے جس کا اطلاق الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سمیت سوشل میڈیا جس میں واٹس ایپ بھی شامل ہے تمام پلیٹ فارمز پر ہو گا اسی لئے تمام صحافتی تنظیموں’ میڈیا مالکان’ اپوزیشن اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی بیانگ دہل کہا ہے کہ یہ شخصی آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کی کوشش ہے کیونکہ پہلے سے قوانین موجود ہیں لیکن ان کے گھیرے میں صرف عام آدمی آتا ہے اب مزید اس گھیرے کو تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جوابدہی کا خوف نہ رہے باایں وجہ اپوزیشن نے بھی ہتک عزت قانون کے خلاف میڈیا کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ارکان پارلیمان ایوان میں بیٹھ کر صرف ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے والے قوانین بنانے اور ختم کرتے وقت مدت گزار دیتے ہیں اور یہ سلسلہ برسوں سے چلا آ رہا ہے الیکشنوں میں میڈیا کی آزادی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے لیکن جیسے ہی برسراقتدار آتے ہیں تو میڈیا کی زبان بندی کے لیے سرجوڑ لیتے ہیں کیونکہ جمہوریت کے نام پر شخص آمریت چلاتے ہیں تو کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ جمہور سوال کرے، ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جن کا مقصد ایسا خوف پھیلانا ہے کہ لوگ سچ لکھنے’ بولنے اور سوال پوچھنے کی ہمت نہ کریں اور برسراقتدار من مانیاں اور ریشہ دوانیاں کرتے پھریں، ہتک عزت بل منظور ہونے پر اپوزیشن نے کاپیاں پھاڑ دیں ان کی اپنی اتحادی حکومت نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا میڈیا مالکان وکارکنان بھی اس بل کے خلاف نعرے لگاتے پریس گیلری سے واک آئوٹ کر گئے لیکن پھر بھی منظوری دے دی گئی یعنی کسی کی پرواہ نہیں کی گئی! مئی جو آزادی صحافت کا مہینہ ہے اسی مہینے میں وقت کے حکمرانوں کی طرف سے ایسی قانون گردی کر دی گئی ہے جس پر پورے ملک کی صحافی برادری سراپا احتجاج ہے حکمرانوں کو چاہیے کہ ایک نئے مسئلے کو پیدا ہونے سے قبل اس کو حل کرلیں ہمارے خیال میں ہتک عزت بل کو واپس لے لیا جائے تاکہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا نہ ہوں! پنجاب حکومت نے جلد بازی میں ہتک عزت کا جو قانون بنا دیا ہے اس کے نتیجے میں حکومت کو فائدے کے بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں