72

یاد رفتگان

تحریر…تنویر حسین
میری طرف انگلی اٹھا کررعب دار آواز میں کہناکہ” میرے ساتھ دھیمے لحجہ میں بات کر نا”یہ صرف اور صرف میرے سینئر گوجرہ کی صحافت کے ماتھے کا جھو مرمیدانِ صحافت کا شہسوارقلم کی حرمت کا پاسبان آبروئے صحافت فیچر رائٹرگوجرہ کی صحافت کی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے کا ماہر میری مراد بابائے صحافت بابا جی خورشید اطہرمرحوم کاہی خاصہ تھا۔موت ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھناہے۔ باباجی خورشید اطہر جن دنوں کرونا کی بیماری کا عروج تھااور کرونا کی وباء کاخوف ہر فرد پر طاری تھا اور دنیابھر میں لاتعداد اموات ہوئیں رمضان المبار ک کے ایام تھے اور عید کی آمد آمد تھی ۔ ہر کوئی عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے اپنے اپنے بچوں کوعید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے ان کی امیدوں میں رنگ بھر نے میں مصروف تھا کہ اسی دوران فرشتہ اجل کی آمد ہوئی اورہنستا بستا خوشیوں سے بھراگھر ماتم کدہ میں تبدیل ہو گیا اور باباجی نے ربِ کریم کے حکم پر لبیک کہااور دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ان کی موت کی خبر ہر طرف جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ مرحوم کا میرے ساتھ تعلق 1980 سے تھا ۔وہ میرے والد محترم اشفاق حسین قریشی(مرحوم) کے صحافتی ہم سفر تھے بلکہ ایک دوسرے کے دست وبازوتھے اور والد محترم کو بابا جی ”پآجی اشفاق”کہ کر پکارتے تھے۔ بابا جی کی آواز آج بھی اسی طرح میرے کانوں میں گھونج رہی ہے۔والد محترم کے1982میں انتقال کے بعد باباجی کی رہنمائی میںبطور پریس فوٹوگرافر صحافتی سفرکا آغاز ہوامرحوم نے میری ہر مقام پر مکمل رہنمائی کی اور ہرمشکل کی گھڑی میں میرے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ ان کو اپنی ڈھال سمجھا جو ہمیشہ محبت وشفقت کیساتھ مجھے سرکاری و غیر سرکاری تقاریب میں ساتھ لیکر جاتے اور متعارف کرواتے ۔مرحوم نے اپنی تمام تر صحافتی زند گی میں علاقائی مسائل کو اجاگرکر نے میں نمایاں صحا فتی فرائض ا نجا م دئیے اور علا قہ کی تعمیرو تر قی میں بھی اپنے قلم کی طاقت کا بھر پور استعما ل کیا۔ہمیشہ صا ف ستھری اور حقا ئق پر مبنی صحافت کو فروغ دیا۔ حق اورسچ کاعلم بلند کیا۔ اداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے وا لی مرحوم کی تحریریں آج بھی ان کی یاد کوتازہ رکھے ہو ئے ہیں ۔دبنگ شخصیت واعلی کردارکے صحا فی ہونے کیسا تھ ساتھ ایک اعلی درجے کے شاعر بھی تھے جو فیصل آباد کے معروف شاعراحمد شہباز خاور کی شاگردی میں رہنمائی لیتے رہے۔ احمد شہباز خاور کا تعلق بھی گوجرہ سے تھا۔راقم الحروف کو گوجرہ میں ہونیوالے محفلِ مشاعروں میں اپنے ابو جی کے ساتھ جانیکا شرف حاصل ہو تا رہا۔ ا سی وجہ سے احمد شہبازخاور صاحب کی شاعری سننے کا موقع ملتارہا۔ احمد شہباز خاور پر نوجوانی کا عالم تھاجوبہترین نوجوان شاعر ہو نے کی بدولت محفلوں کی جان سمجھے جاتے تھے اور اپنے کلام کی پختگی اورلب ولحجہ سے ادائیگی کے منفرد اندازسے محفل لوٹ لیتے تھے۔انہوں نے بھی گوجرہ آمد کے موقع پر ہمیشہ مجھ سے روابط کا سلسلہ جاری رکھا۔مرحوم باباجی خورشیداطہرنے اپنی تمام تر صحافتی زندگی فیصل آباد کے معروف اخبار” ڈیلی بزنس رپورٹ ”کے ساتھ گزاری۔” ڈیلی بزنس رپورٹ” کے چیف ایڈیٹرمرحوم عبدالرشید غازی بھی ان کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کرتے تھے ۔باباجی کے ہمراہ ان کے ساتھ بھی ملنے کامتعددبار موقع ملا ۔ میں جب یہ تحریرلکھ رہاہوں سچ جانیں کہ میرے وہم وگمان میں ایک نام بڑی شدت سے گھوم رہاہے وہ فیصل آباد کے صحافتی حلقوں میں معتبر نام ملک ریاض صاحب کا ہے جوبے شمار خوبیوں کے مالک ہیںانکی شفقت ومحبت کااظہار لفظوں میںبیان کر نا ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے ہمیشہ میرے ساتھ بھائیوں جیسا رشتہ نبھایاہے۔ خورشید اطہر (مرحوم ) کی سالانہ برسی کی تقریب ان کے صاحبزادوں محمد شفیق اورعتیق اطہرکی رہائش گاہ پر نہایت عقیدت واحترام کیساتھ منعقد ہوئی جس میں صحافیوں سمیت عمائدین علاقہ کی کثیرتعدادنے شر کت کی اور انکی صحافتی خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی خورشید اطہر(مرحوم ) کی مغفرت وبخشش فرمائے(آمین) ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں