98

یورپی یونین کا اسرائیل پر پابندیوں پر غور (اداریہ)

اسرائیلی طیاروں اور ٹینکوں نے ایک بار پھر رفح کے خیموں میں مقیم فلسطینیوں پر بمباری کر دی غزہ پر اسرائیل طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں مزید 41فلسطینی شہید ہو گئے امریکہ اور برطانیہ نے رفح میں خیموں پر اسرائیلی بمباری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے رفح کے مغربی علاقے میں پناہ گزینوں کی خیمہ بستی پر گولہ باری سے 13خواتین سمیت 21 فلسطینی شہید ہو گئے اسرائیل فورسز نے جیالہ کیمپ کے مغرب میں واقع الفلوجہ کے علاقے پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہو گئے رفح کے دو بڑے اسپتالوں سے ایک کویتی اسپتال نے بھی اسرائیلی طیاروں کے حملوں کے بعد کام بند کر دیا ہے جہاں ڈائیلاسز کے 700 مریض زیرعلاج ہیں عالمی ادارہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ رفح میں اسرائیل کی فوجی کارروائی جنوبی غزہ میں شعبہ صحت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے جو پہلے سے ہی تباہی سے دوچار ہے اگر یہ جاری رہا تو اموات میں کافی اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے،، اسرائیلی فوجوں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر گولہ باری اور ہزاروں شہادتوں پر پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے بلکہ متعدد ممالک نے تو اس کی مذمت بھی کی ہے اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں یورپی یونین کا اسرائیل پر پابندیوں کا غور’ سپین’ آئرلینڈ اور ناروے نے فلسطین کو باضابطہ تسلیم بھی کیا ہے اسرائیل نے تینوں یورپی ممالک کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے تینوں یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے سے دیگر یورپی ممالک کو بھی ایسا کرنے کی تقویت ملے گی فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے والے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 145 ہو گئی ہے ڈنمارک کی پارلیمنٹ نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی قرار داد مسترد کر دی ہے آئرلینڈ کے وزیر خارجہ مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ یورپی یونین غزہ میں اسرائیلی جنگ پر اسرائیل کے خلاف پابندیوں پر غور کر رہا ہے اسرائیل عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ نہیں مانتا تو اس پر یورپی یونین کی پابندیاں لگ سکتی ہیں یورپی ذرائع کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیربحث آیا، کئی یورپی سفیروں نے کہا ہے کہ برسلز نے اسرائیل کیلئے الٹی میٹم جاری کرنے کی تیاری کر لی ہے اسرائیل عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نیں کرتا تو اسے معاشی تعلقات کے خاتمے سمیت دیگر پابندیوں کیلئے تیار رہنا پڑے گا آسٹریا اور جرمنی کے علاوہ تمام ممالک کے وزرائے خارجہ اس تجویز سے متفق نظر آئے تین یورپی ممالک سپین’ آئرلینڈ اور ناروے کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے جبکہ آئرلینڈ کے وزیرخارجہ مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ یورپی یونین غزہ میں اسرائیلی جنگ پر اسرائیل کے خلاف پابندیوں پر غور کر رہا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ یورپی یونین فلسطینیوں پر اسرائیلی گولہ باری کے خلاف ہے اور اسرائیل کو تنبیہہ کر رہا ہے کہ وہ باز آ جائے بصورت دیگر اس پر یورپی یونین معاشی پابندیاں عائد کر سکتی ہے یورپی یونین کی جانب سے واضح اعلان کے باوجود بھی اگر اسرائیل نے فلسطینیوں پر گولہ باری بند نہ کی تو پھر اسے اس کا خمیازہ یورپی یونین کی پابندیوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا فلسطین کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی مصنوعات کا اسلامی ممالک میں بائیکاٹ کیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں اسے زبردست معاشی دھچکا لگا ہے یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کے بعد اس کی معیشت کو مزید جھٹکے لگیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرے یا پھر اسلامی ممالک اور یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کے لیے تیار رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں