یوٹیلٹی سٹورز کو آپریشنل کرنے کا پلان طلب

اسلام آباد (بیوروچیف) قومی اسمبلی کی نجکاری کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورزکو بند کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کمرشل بنیادوں پر چلانے کی سفارش کی ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین رکن اسمبلی فاروق ستار کی زیر صدارت منعقدہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری صنعت و پیداوار سمیت ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے یوٹیلیٹی اسٹورز کو آپریشنل کرنیکا پلان طلب کرلیا۔ اجلاس کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز کے حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے سبسڈی بند کرنے سے ادارہ نقصان میں گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ادارہ سالانہ 1.5 ارب منافع اور 25 ارب روپے ٹیکس دے رہا تھا مگر حکومت نے اگست 2024 میں اچانک سبسڈی بند کرنے کا فیصلہ کیا حکام نے بتایا کہ ادارے میں 12 ہزار ملازمین کام کر رہے تھے’ ادارہ نقصان میں چلا گیا۔ حکام نے بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو سبسڈی ماڈل سے تبدیل کرکے کمرشل بنیاد پر چلایا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ حکومت نے بجٹ میں یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے 60 ارب روپے سبسڈی رکھی تھی یوٹیلٹی اسٹورز کی جانب سے گزشتہ پانچ سال میں 113 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اورسبسڈی کی سو فیصد رقم عوام کو منتقل کی گئی اوراس دوران قومی خزانہ میں 85 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا گیا حکام نے بتایا کہ ملک میں چار لاکھ ری ٹیلرز صرف 114 ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز ری ٹیلرز کے مقابلے میں صرف ایک فیصد ہیں اور 20 فیصد زیادہ ٹیکس دیتے ہیں حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد 4 ہزار سے زیادہ ہے مگر حکومت ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈز نہیں دیتی ہے اجلاس میں کمیٹی اراکین نے سٹورز کو بند کرنے کی پالیسی ختم کرتے ہوئے اسے منافع بخش بنانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی سفارش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں