11ماہ میں ٹیکس کی مد میں 50ارب 64کروڑ وصول

اسلام آباد (بیوروچیف) محکمہ ایکسائز نے مالی سال کے 11ماہ میں ٹیکس دہندگان سے 50 ارب 64کروڑ وصول کرلئے۔ رہائشی گھروں پر تالہ بندی کی اجازت نہ ہونے سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں بہتری نہ آسکی۔محکمہ ایکسائز کے ذرائع کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 28ارب روپے سے زائد کے ہدف میں صرف 19ارب روپے ہی وصول کیے جا سکے۔اس کے برعکس موٹر ٹیکس کے شعبے میں محکمہ نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے مقررہ ہدف 22ارب 20کروڑ روپے کے مقابلے میں 26ارب 50کروڑ روپے سے زائد کی وصولی کی۔پروفیشنل ٹیکس کے حوالے سے 1ارب 65 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس میں سے 1ارب 28کروڑ روپے حاصل کیے جا سکے۔ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 3ارب 84کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں 2ارب 97کروڑ روپے وصول ہوئے۔ اسی طرح لگژری ہائوسز پر عائد ٹیکس کی مد میں 1ارب 50کروڑ کے ہدف میں سے تقریبا سوا ارب روپے وصول کیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن افسران کی ریکوری ناقص رہی ہے، انہیں شوکاز نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ مالی سال کے اختتام پر اگر اہداف حاصل نہ ہوئے تو متعلقہ انسپکٹرز اور ای ٹی اوز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ ایکسائز کو امید ہے کہ مالی سال کے آخری مہینے میں پنجاب بھر سے 4سے 5ارب روپے کے اضافی ٹیکس کی وصولی ممکن ہو سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں