11منزلہ عمارت گھنٹوں میں تیار

چانگشا (مانیٹرنگ ڈیسک) چین معماروں نے ایک بار پھر برق رفتاری سے تعمیرات کا منفرد کارنامہ انجام دیتے ہوئے صرف29گھنٹوں سے بھی کم وقت میں11منزلہ عمارت کھڑی کردی۔چانگشا شہر میں بروڈ گروپ کی جانب سے مکمل کیا جانے والا یہ منصوبہ انتہائی دقیق ماڈیولر تعمیراتی نظام کا حصہ ہے جس کے تحت فیکٹری میں تیار شدہ اسٹیل یونٹس موقع پر پہنچتے ہی جوڑ دیے جاتے ہیں۔عمارت کو پری فیبریکیٹڈ اسٹیل ماڈیولز کے ذریعے کھڑا کیا گیا جن میں پانی، بجلی اور دیگر ضروری تنصیبات پہلے سے موجود تھیں۔ یہ یونٹس فیکٹری سے مکمل حالت میں تیار ہوکر تعمیراتی مقام تک لائے گئے جہاں 3 کرینوں اور تربیت یافتہ عملے نے انہیں جوڑ کر عمارت کی شکل دی۔کمپنی کے مطابق عمارت کو مکمل کرنے میں مجموعی طور پر 28 گھنٹے 45 منٹ لگے جو اپنی نوعیت کا دنیا کے تیز ترین تعمیراتی ریکارڈز میں شمار ہوتا ہے۔اس نظام کی بنیاد اسٹین لیس اسٹیل کی مضبوط پلیٹیں ہیں جنہیں کمپنی لِونگ بلڈنگ سسٹم کا حصہ قرار دیتی ہے۔ ہر ماڈیول تقریبا 40 فٹ لمبا، 8 فٹ چوڑا اور 10 فٹ اونچا ہے.جسے شپنگ کنٹینرز کے معیار کے مطابق بنایا گیا تاکہ ترسیل میں آسانی رہے۔ عمارت کی تکمیل کے بعد یہ یونٹس ستونوں کے بغیر کشادہ ہال جیسی جگہ فراہم کرتے ہیں اور بجلی و پانی کی کنکشن کے ساتھ فوری طور پر قابل استعمال ہو جاتے ہیں۔بروڈ گروپ کے مطابق اسٹیل ماڈیولز نہ صرف روایتی کنکریٹ تعمیرات کے مقابلے میں ہلکے ہیں بلکہ زیادہ مضبوط اور زلزلوں، طوفانوں سمیت شدید موسمی حالات کے خلاف بہتر مزاحمت رکھتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے تعمیراتی لاگت کم ہوتی ہے اور توانائی کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آتی ہے جس سے رہائشی اخراجات میں کمی کا فائدہ صارفین کو ملتا ہے۔تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موقع پر عمارت کھڑی ہونے کی رفتار حیران کن ہے لیکن اس کامیابی کا بڑا حصہ فیکٹری میں پہلے سے کیے گئے کام، ماڈیولز کی تیاری، معیار کی جانچ، لاجسٹک منصوبہ بندی اور بروقت ترسیل پر منحصر ہے۔ موقع پر ہونے والا کام بنیادی طور پر پہلے سے تیار شدہ حصوں کی تیز رفتار جوڑائی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ تجربہ طویل مدت میں رہائشی معیار، حفاظت اور پائیداری کے تمام تقاضوں پر پورا اترا تو چین سمیت دنیا کے بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ رہائشی منصوبوں کی تعمیر کا طریقہ بدل سکتا ہے۔تیزی سے بڑھتے شہری علاقوں میں یہ ماڈیولر نظام کم لاگت، کم وقت اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ رہائش کی فراہمی کا نیا حل ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں