25

2026ء کو اصلاحات کا سال قرار دینے کی تجویز (اداریہ)

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے سال 2026ء کو اصلاحات کا سال قرار دینے کی تجویز دی ہے، وفاقی وزیر نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ معیشت کے اسٹرکچرل خلاء کا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اخراجات آمدنی سے زیادہ ہیں دوسرا یہ کہ وسائل صوبوں کو زیادہ چلے جاتے ہیں جی ڈی پی میں 20فی صد حصہ رکھنے والی انڈسٹری پر ٹیکسوں کا 70فی صد بوجھ ہمیں اس بوجھ کو سروسز اور زراعت کے سیکٹرز میں تقسیم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بھی اپنی شرائط اور بندشیں ہیں جن میں ہمارے پاس زیادہ گنجائش ہے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریاستی ادارے متفق ہیں تو امید ہے کہ ہم اصلاحات میں کامیاب ہو جائیں گے” وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کی 2026ء کو اصلاحات کا سال قرار دینے کی تجویز قابل ستائش ہے بلاشبہ ہمارے اداروں میں اصلاحات کی بہت گنجائش ہے اداروں میں کرپشن اور اقربا پروری سمیت بہت سی خرابیاں ہیں جنکو اصلاحات کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے اور اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں تمام تر قدرتی وسائل کے باوجود ہم غیروں کے سامنے قرض کے لیے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں اور فی الحال عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے جان چھڑانی ممکن نظر نہیں آ رہی اور ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں وزیراعظم شہباز شریف’ ان کی معاشی ٹیم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور کوششیں کر رہی ہے کہ ملک کا نظم ونسق تسلسل کے ساتھ بہتر گورننس کے ذریعے چلتا رہے حکومت نے معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور بجٹ میں حقیقت پسندی لانے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ممکنہ رعائتیں حاصل کرنے کی غرض سے تمام معاشی وزارتوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر اس جائزے کے بعد کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی ڈھانچہ ن تو خاطر خواہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کر پا رہا ہے اور نہ ہی پائیدار معاشی نمو فراہم کر سکتا ہے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے وزارتوں کے ساتھ پہلی نشست کی جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر تجاویز مانگی گئیں مشاورت ستمبر 2027ء تک جاری آئی ایم ایف پروگرام کے دائرے میں صروری معاشی ایڈجسٹمنٹس کے تناظر میں کی گئی دوسری جانب آئی ایم ایف کے موجودہ 7ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج کے خاتمے کے بعد پروگرام سے نکلنے کی تیاریوں پر بھی مشق شروع کر دی ہے تاہم وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے آئی ایم ایف سے مستقل نجات کو 2029ء تک برآمدات 63ارب ڈالر تک بڑھانے سے مشروط کیا ہے جس کے لیے 4برس میں برآمدات کو 100 فی صد اضافہ درکار ہو گا وفاقی وزیر محمد اورنگ زیب اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال دونوں کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں