3 روزہ گوجرہ ہاکی ٹورنامنٹ رشید الحسن اکیڈیمی نے جیت لیا

گوجرہ (سپورٹس نیوز) تین روزہ دی گوجرہ ہاکی ٹورنامنٹ رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی نے سخت مقابلے کے بعد دو کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا۔ دنیائے ہاکی کے مشہور انٹرنیشنل اسٹیڈیم گوجرہ میں گوجرہ کی معروف ٹیموں کے مابین فائنل کھیلا گیا۔دی گوجرہ ہاکی کلب اور رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی نے عمدہ کھیل پیش کرکے شائقین کے دل جیت لئے۔ آرگنائزنگ سیکرٹری محمد کاشف جاوید انٹرنیشنل اور نوجواں کھلاڑی احمد رفیق کی کاوشوں سے گوجرہ میں کامیاب ایونٹ منعقد ہوا۔فائنل میں بہترین کھیل پیش کرکے طاہرزمان نے مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا جبکہ پورے ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر محمد اویس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔مہمان خصوصی گوجرہ بار میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والے صدر طارق مرزا نے کہا گوجرہ کی قومی کھیل ہاکی میں حیثیت ریڈھ کی ہڈی کی مانند ہے۔پاکستان ٹیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں گوجرہ کے کھلاڑی شامل نہ ہوں،اولمپئین منظور الحسن اور اولمپئین رشیدالحسن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔انہوں نے ونر ٹیم رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی کو 20،ہزار روپے اورٹرافی دی۔ مہمان اعزاز سینئیر وکیل سابق صدر بار شیخ محمد جاوید نے رنر اپ ٹیم دی گوجرہ ہاکی کلب کو 15000ہزار روپے اور ٹرافی ،طارق محمود ملک ایڈووکیٹ نے تھرڈ الیاس ریاض کو 10ہزار روپے نقد دیے اوراس موقع پر طاہر اولکھ ایڈووکیٹ، سینئیر صحافی ڈاکٹر محمد حسین ملک رانا عبداللہ شفیع، میاں زاہد،امجد اسلام امجد، محمد کاشف پھول،احمد رفیق،،خالد اکرام انٹرنیشنل بھی موجود تھے۔یاد رہے کہ سابق کوچ و سلیکٹر قومی ہاکی ٹیم۔کوچ دی ای۔ اے ہاکی اکیڈیمی لاہور دنیائے ہاکی میں دیورا چین کا لقب پانے والے منظور الحسن سینئر نے ٹورنامنٹ کا افتتاح کرتے ہوے کہا کہ پاکستان کا سنہری دور تب ہی واپس ا سکتا ہے کہ جب کھلاڑیوں کی سلیکشن پسند نا پسند کی بجائے میرٹ پر ہوگی۔ہمارے دور میں ایک ایک سائیڈ پر تین سے چار کھلاڑی بیک اپ کے طور پر تیار ہوتے تھے۔جن میں 19 یا 20 کا فرق ہوتا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی کے پاس 70 کے قریب کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں۔اور انہیں اولمپئین رشیدالحسن اس مہنگائی کے دور میں ہاکیاں بال،گول کیپر پیڈ(جو کم از کم 5 لاکھ روپے) کے آتے ہیں دیتے ہیں۔بہترین کٹ اور ٹریک سوٹ بھی دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ گراونڈ ہے جس نے پاکستان ہاکی ٹیموں کو تسلسل کے ساتھ سو سے زائد کھلاڑی دئے ہیں۔انہوں نے کہا جو بہترین کارکردگی کا حامل کھلاڑی ہو گا اسے ڈی ایچ اے ہاکی اکیڈیمی لاہورمیں ٹریننگ۔مفت تعلیم اور 50 ہزار روپے کا پیکج دیں گے۔احمد رفیق نے کہا کہ یہ میرا پہلا تجربہ ہے کامیاب رہا۔ارگنائزنگ سیکرٹری کاشف جاوید انٹرنیشنل و کوچ رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی نے کہا مستقبل میں بھی اچھے ٹورنامنٹ منعقد کروائیں گے ۔اولمپئین رشیدالحسن تمام کھلاڑیوں کی ضروریات (ہاکیاں،بال یونیفارم ودیگر ) پورا کرتے ہیں۔اور کھلاڑیوں کو ٹپس دیتے ہیں ۔رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی میں اس وقت 70 سے زائد ہونہار کھلاڑی صبح اور شام کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔جو مستقبل میں مختلف ڈیپارٹمنٹ میں گوجرہ کی نمائندگی کریں گے۔ڈاکٹر محمد حسین نے کہا اگف اپ ہسپیتال ویران دیکھنا چاہتے ہیں تو کھیلوں کے گراونڈ اباد کرو۔قومی کھیل کی بحالی کیلئے رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ہاکی غریب گھرانوں کے لڑکے کھیلتے ہیں اس مہنگائی کے دور میں ہاکی کا مہنگا سامان خریدنا ان کے بس کی بات نہیں۔ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں رشیدالحسن ہاکی اکیڈیمی جیسا ادارہ ملا ہے جو تمام سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں