3500سال پرانا مقبرہ دریافت

مصر ( مانیٹرنگ ڈیسک )مصر میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک تاریخی دریافت کا اعلان کیا ہے جسے گزشتہ 100برسوں کی سب سے اہم دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دریافت فرعون تھٹموس دوم کے مقبرے کی شکل میں سامنے آئی ہے جو تقریباً 3500 سال پرانا ہے۔مصری سپریم کونسل آف اینٹیکویٹیز کے سیکرٹری جنرل محمد اسماعیل خالد کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ تھٹموس دوم سے منسوب تدفینی سامان دریافت ہوا ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی میوزیم میں ایسے آثار موجود نہیں۔یہ مقبرہ مصری اور برطانوی ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے اس سال فروری میں تھیبن پہاڑوں کے علاقے میں دریافت کیا جو لکسر کے مغرب میں واقع ہے اور وادی ملوک کے قریب ہے۔ابتدائی طور پر اس مقام کو فرعونوں کی بیویوں کی آخری آرام گاہ سمجھا گیا تھا کیونکہ یہ تھٹموس سوم کی بیویوں اور مصر کی واحد خاتون فرعون، ملکہ حتشپسوت کے مقبروں کے قریب واقع تھا۔تاہم مقبرے میں ملنے والے اشیا جیسے الاباسٹر کے برتنوں کے ٹکڑوں پر کندہ تحریروں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ مقبرہ تھٹموس دوم اور ان کی مرکزی بیوی، ملکہ حتشپسوت کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں