39سمارٹ پولیس سٹیشنز کی تعمیر کاکام تیز

لاہور (بیوروچیف) وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا محفوظ پنجاب ویژن، صوبہ بھر میں 39 سمارٹ پولیس سٹیشنز تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔ سمارٹ پولیس سٹیشنز کی تعمیر کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کی بچت ہو گی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ لاہور کے گنجان آباد علاقوں میں 22 سمارٹ پولیس سٹیشنز تیزی سے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ تمام سمارٹ پولیس سٹیشنز سپیشل انیشئیٹو پولیس سٹیشنز پروٹوکول اور ایس او پیز پر فنکشنل ہونگے۔لاہور پولیس کے تمام سمارٹ پولیس اسٹیشنز سرکاری اراضی پر ماضی کی نسبت کم لاگت میں تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور پولیس کے کرایوں کی بلڈنگز میں قائم 10 پولیس سٹیشنز قبل ازیں کروڑوں روپے کرایوں کی مد میں ادا کر رہے تھے۔ سرکاری اراضی پر 10 سمارٹ پولیس سٹیشنز کی تعمیر سے قومی خزانے کو سالانہ 02 کروڑ 08 لاکھ روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔ پولیس اسٹیشن ساندہ، ملت پارک، گجر پورہ، کوٹ لکھپت ، اسلام پورہ قبل ازیں کرایوں کی بلڈنگز میں تھے۔ پولیس سٹیشن شالامار، سمن آباد، شفیق آباد، شاد باغ اور جوہر ٹاؤن بھی قبل ازیں کروڑوں روپے سالانہ کرایوں کی مد میں ادا کر رہے تھے۔ سمارٹ پولیس سٹیشنز کی تعمیر سے حکومتی خزانے کو تقریبا ساڑھے 04 ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل ہو گی۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سمارٹ پولیس سٹیشنز گنجان آباد علاقوں میں01 سے 02 کنال اراضی پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے مزید بتایا کہ ملتان میں 03 ، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، رحیم یارخان، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں 02 جبکہ اٹک، گجرات، ساہیوال اور شیخوپورہ میں 01 سمارٹ پولیس سٹیشن تعمیر کیا جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں