1

40سال کی خواتین میں جسمانی تبدیلیاں آنا عام

کراچی ( بیو رو چیف )چالیس سال کی عمر کے بعد خواتین کے جسم میں کئی نمایاں تبدیلیاں آنا عام ہیں۔ توانائی کی سطح میں کمی یا اتار چڑھا، ہارمونز میں عدم توازن اور ہڈیوں کی کمزور ہونے کی علامات اکثر دیکھی جاتی ہیں جس کے باعث روزمرہ کے معمولات پربہت اثر پڑسکتا ہے۔ ماہرین صحت اور غذائیت کے مطابق، مناسب غذا، باقاعدہ ورزش اور مکمل نیند کے ساتھ مخصوص سپلیمنٹس استعمال کرنے سے جسمانی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور زندگی میں توانائی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ماہر امراض جلد ڈاکٹر گروین واریچ گاریکار نے حال ہی میں انسٹاگرام پر خواتین کے لیے اپنی صحت اور فٹنس برقرار رکھنے کے لیے پانچ سپلیمنٹس کے بارے میں بات کی ہے۔ ڈاکٹر گاریکار نے بتایا کہ یہ سپلیمنٹس وہ خود روزانہ استعمال کرتی ہیں تاکہ عمر کے ساتھ جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور توانائی اور طاقت برقرار رہے۔میگنیشیم گلائیسینیٹ، خاص طور پر رات کے کھانے کے بعد، نیند کے معیار کو بہتر بنانے اور پٹھوں کے درد کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ یہ پٹھوں کی کارکردگی بڑھاتا ہے اور جسم و دماغ کو سکون دیتا ہے۔ہارمونز میں تبدیلی کے بعد ہڈیوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے کیلشیم اور وٹامن ڈی سپلیمنٹس ضروری ہیں، یہ ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہیں، خاص طور پر چالیس سال کے بعد جب ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے۔ وٹامن ڈی کیلشیم کے جذب کو بہتر بناتا ہے جبکہ کیلشیم ہڈیوں کی طاقت برقرار رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔اومیگا تھری سپلیمنٹس دن میں کسی بھی وقت لیے جا سکتے ہیں۔ یہ دماغ کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں، سوزش کم کرتے ہیں اور دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ کولیسٹرول کے توازن اور جوڑوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔جلد کی صحت اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامن سی اور گلوٹا تھایون فائدہ مند ہے۔ یہ سپلیمنٹ صبح یا سہ پہر ہلکی غذا کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ گلوٹا تھایون خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے اور وٹامن سی جلد کی صحت اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ورزش کے بعد پٹھوں کی مضبوطی اور توانائی برقرار رکھنے کے لیے پروٹین سپلیمنٹس ضروری ہیں۔ پلانٹ پروٹین سپلیمنٹ میٹابولزم کو مستحکم رکھنے اور پٹھوں کی بحالی میں موثر ہے۔ڈاکٹر گاریکار کا مشورہ ہے کہ سپلیمنٹس تین ماہ استعمال کریں اور پھر ایک ماہ وقفہ لیں۔ اس کے علاوہ چھ سے آٹھ ماہ بعد کیلشیم، وٹامن ڈی اور وٹامن بی 12 کی سطح چیک کرانا ضروری ہے۔یہ معلومات صرف عمومی رہنمائی کے لیے ہیں، یاد رکھیں کسی بھی سپلیمنٹ یا وٹامنز کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ کوئی بھی دوا یا فوڈ سپلیمنٹ اپنے معالج کی نگرانی ہی میں استعمال کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں