فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان فلاح پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید آفتاب عظیم بخاری نے سانحہ گل پلازہ کراچی میں ہونیوا لے “جانی ومالی “نقصان پر اظہار دکھکرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا بلکہ اس نے حکمرانوں کے جھو ٹے دعوئوں ، کاغذی قوانین اور بے حس نظام کو ننگا کر دیا یہ حادثہ نہیں قتل ہے ایسا قتل جس میں مجرم وہ ادارے ہیں جو ہر سانحے کے بعد کمیٹیاں بنا کر سو جاتے ہیں اور وہ حکومت جو فائلوں میں دبی جانوں پر سیاست کرتی ہے جن ہاتھوں نے حفاظتی اقدامات پر دستخط کرنے تھے وہی ہاتھ آج تعزیتی بیانات لکھ رہے ہیں اور جن آنکھوں کو نگرانی کرنی تھی وہ آج بھی بند ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی سوال یہ ہے کہ فائر سیفٹی کہاں تھی؟ ایمرجنسی راستے کیوں بند تھے؟ اجازت نامے کس نے دیے اور کس قیمت پر؟ گل پلازہ کے شعلے دراصل اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے چائیں تھے کیونکہ وہاں بیٹھے لوگ اگر جاگے ہوتے تو مزدور، ملازم اور غریب یوں زندہ جلنے کے لیے نہ چھوڑے جاتے۔ یہ وقت آنسوئوں کا نہیں حساب کا ہے۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی ذمہ داروں کو نشانِ عبرت نہ بنایا گیا تو ہر آنے والی آگ کا دھواں حکومت کے گریبان تک جائے گا اور تاریخ گواہی دے گی کہ یہ نظام لوگوں کو بچانے میں نہیں ، صرف دفن کرنے میں ماہر تھا !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں