38

56شہروں میں غیر منقولہ جائیدادوں کے ویلیو ایشن ریٹس میں75فیصد اضافہ

اسلام آباد (بیوروچیف) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک کے 56شہروں میں غیر منقولہ جائیدادوں کی ویلیوایشن ریٹس کو موجودہ مارکیٹ ریٹس کے75فیصد تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ نئے نظر ثانی شدہ نرخ یکم نومبر 2024سے لاگو ہوں گے۔ایف بی آر غیر منقولہ جائیدادوں کی ویلیوایشن ٹیبلز کو مارکیٹ ویلیوز کے قریب لا کر اپنی پوزیشن بڑھا رہا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے نوٹیفائی کی گئی ویلیوایشن ٹیبلز ٹیکس نظام کو جائیدادوں سے مزید محصولات حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔شہروں کی تعداد بھی بڑھا کر 42سے 56کر دی گئی ہے تاکہ عالمی بینک کے قرضوں کی شرائط پوری کی جا سکیں۔ حکومت پلاٹس کی فروخت کے ذریعے رئیل اسٹیٹ کو روکنا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی تعمیراتی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی منصوبے بنا رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی متعارف نہیں کرا سکتی لیکن تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس کا بوجھ کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اپنے ارادوں کو کیسے عملی جامہ پہناتی ہے۔ رئیل اسٹیٹ اس ویلیوایشن ٹیبلز میں ترمیم کو پراپرٹی سیکٹر میں مزید لین دین کی حوصلہ شکنی کے طور پر دیکھے گا۔نظر ثانی شدہ ویلیوایشن ریٹس کا نوٹیفکیشن کسی بھی وقت ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے 56شہروں میں غیر منقولہ جائیدادوں کی ویلیوایشن ریٹس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ایف بی آر نے ڈویلپرز اور بلڈرز کے ساتھ ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں متعدد ملاقاتوں کے بعد ویلیوایشن ریٹس میں اضافے کی منظوری دی ہے۔ ایف بی آر نے پہلے بھی 2018، 2019، 2021اور 2022میں پراپرٹی ویلیویشن ایڈجسٹ کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں