38

8بازاروں کو وہیکل فری بنانے سے پارکنگ مسائل بڑھ گئے

فیصل آباد (آن لائن) شہر کے آٹھ بازاروں میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے داخل پر پابندی کے بعدپارکنگ اور ٹرانسپوٹ کا بڑا مسئلہ بن گیا،پارگنگ ٹھیکیداروں کا ضلع کچہری اور سرکلر روڈ چینوٹ بازار سے کچہری بازار،حبیب بنک سے ضلع کونسل کے اطراف پارکنگ کے نام پر سڑکوں پر ہی قبضہ،پارگنگ فیس کار200روپے اور موٹر سائیکل40روپے کردی گئی،سڑکوں پرپارکنگ کی وجہ سے ٹریفک کانظام درہم برہم ‘ چینوٹ بازار سے ریل بازار گمٹی چوک تک پارکنگ کی وجہ سے ٹریفک جام اورگاڑیوں کی لمبی قطاریں،شہر یوں اور تاجروں کاچینوٹ بازار سے ریل بازار گمٹی چوک تک بھی سڑکوں پارکنگ پرمکمل خاتمہ اور شہرمیں سرکاری سطح پرسستی پبلک ٹرانسپورٹ کامطالبہ۔ آن لائن کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مقامی انتظامیہ کا پاکستان کے تیسرے بڑے شہرفیصل آبادکے آٹھ بازاروں کو تجاوزات سے پاک اور وہیکل فری بنانے کا اقدام قابل تحسین ہے مگرآٹھ بازاروں میں گاڑیوں کے داخل پر پابندی اور پارکنگ ختم ہونے کے بعد تاجروں اور شہریوں کے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا شہر اور سرکاری پارگنگ اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کے نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں اور تاجروں کاکاروبارمراکز سمیت نجی اورسرکاری دفتر میں آنے جانے کے راستے بھی بند ہوگئے جبکہ سرکلر روڈ چینوٹ بازار سے کچہری بازار تک وکلاء نے غیر قانونی دروازے بھی ٹریفک اور ضلع کچہری کیلئے سیکورٹی کو بھی غیرمحفوظ بنادیا اور ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن نے پارگنگ کے نام شہریوں کو لوٹنا شروع کردیا جبکہ اصل فائدہ ضلع کچہری کے گردونواح میں پارکنگ ٹھیکیدار اٹھا رہے ہیں۔ ڈویژنل کمشنرفیصل آباد، ڈپٹی کمشنرفیصل آباد اور ٹریفک پولیس بھی اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیلئے کچہری کے چاروں اطراف میں پارکنگ کا ٹھیکہ سونے کی چڑیا بن گیا، کچہری ٹائم کے بعد بھی پارکنگ کی فیس ڈسٹرکٹ بار ایسویسی ایشن کے نام پر وصول کی جاتی ہے غیر قانونی طور پر سرکاری پارکنگ پوائنٹس پر قابض ٹھیکیداروں نے گھنٹہ گھر کے بازاروں کو و ہیکل فری بنانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موٹر سائیکل 20سے بڑھا کر 40سے 60روپے کار کی پارکنگ فیس 100سے بڑھا کر 200کردی۔ بار ایسوسی ایشن نے سرکلر روڈ چینوٹ بازار سے کچہری بازار اور حبیب بنک سے ضلع کونسل سمیت ضلع کچہری کے چاروں اطراف میں پارکنگ کمپنی نے قبضہ جما رکھا ہے۔ بتایا گیاکہ اس قبل بھی آڈٹ رپورٹس میں متعدد بار یہ معاملہ سامنے آنے کے باوجود تا حال ضلعی انتظامیہ اور فیصل آباد پارکنگ کمپنی سائٹس واگزار کروانے میں ناکام ہیں۔ دو ہفتے سے آٹھ بازاروں میں تجاوزات اور پارکنگ کے خلاف آپریشن سے مسئلہ مزید سنگین ہوگیا انتظامیہ کی جانب سے گھنٹہ گھر کے آٹھوں بازاروں کو وہیکل فری بنانے کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ موٹر سائیکل کی فیس بھی 40سے 60روپے تک وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ بار کا ٹھیکہ لینے والوں نے آمد ورفت کے لیے قائم سڑکوں کو پارکنگ سٹینڈ بنا رکھا ہے۔ انتظامیہ کا گھنٹہ گھر کے بازاروں کو خوب صورت بنانے کی کوشش اچھا اقدام تاہم کاروباری مراکز کی موجودگی کے باعث بھاری آمد ورفت کے پیش نظر سرکاری سطح پر پارکنگ اورپبلک ٹرنسپورٹ کے نامناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں بلکہ پہلے ہی بجلی گیس اور دیگر بھاری ٹیکسز سے پریشان سے تاجروں اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ تاجروں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف،ڈویژنل کمشنر مریم خاں، ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں سے پارکنگ ختم اور سرکاری سستی پبلک ٹرانسپورٹ منظم انداز میں چلوانے انتظامات کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں