9سال بعد تھیوری ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنے میں کامیابی

تارنو (مانیٹرنگ ڈیسک) پولینڈ کے شہر تارنو میں ایک نوجوان نے 9 سال کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر تھیوری ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کر لیا۔ یہ مقامی شخص 2017 سے یہ امتحان دے رہا تھا اور اسے کامیابی حاصل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 139 کوششیں کرنی پڑیں۔ پولینڈ میں دیگر یورپی ممالک کی طرح، ڈرائیونگ سیکھنے والوں کو عملی امتحان دینے سے پہلے لازمی طور پر کمپیوٹر پر مبنی تھیوری ٹیسٹ پاس کرنا ہوتا ہے۔اگر کوئی امیدوار تھیوری ٹیسٹ میں ناکام رہتا ہے تو وہ عملی امتحان دینے کے اہل نہیں ہوتا، عام طور پر لوگ 1 سے 3 کوششوں میں یہ ٹیسٹ پاس کر لیتے ہیں۔ لیکن بعض غیر معمولی حالات میں یہ برسوں اور درجنوں کوششوں تک بھی جا سکتا ہے۔مالوپولسکا روڈ ٹریفک سینٹر کے مطابق اس امیدوار نے امتحانی فیس میں تقریبا 1800 یورو (2100ڈالر) خرچ کیے۔ سینٹر کے ڈائریکٹر نے کہا کہ نوجوان نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل کوشش جاری رکھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس اس کے لیے بہت اہم ہے۔ابتدائی ناکامیوں کی وجوہات میں یہ بھی شامل تھی کہ امیدوار ابتدائی طور پر صرف ڈیمو ورژن استعمال کر رہا تھا جس میں تمام ممکنہ سوالات شامل نہیں تھے۔ بعد ازاں، مکمل پروگرام کے استعمال سے اس نے بہتری حاصل کی اور آخرکار کامیاب ہوا۔اب یہ شخص عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ کا انتظار کر رہا ہے اور اگر وہ اس میں ناکام ہو جاتا ہے تو اسے دوبارہ تھیوری ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔یہ تو ایک غیر معمولی واقعہ ہے، لیکن قومی ریکارڈ نہیں، پولش میڈیا کے مطابق پہلے ایک شخص نے تھیوری ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے 17 سال اور 163 کوششیں کی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں