110

چک جھمرہ کو کس نے کیا دیا؟؟؟

تحریر۔افضال تتلہ
چار سو سال پرانا شہر چک جھمرہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے اس شہر کی تعمیر میں برطانیہ گورنمنٹ نے بھی اپنا حصہ ڈالا یہاں تک کہ برطانیہ کے دور حکومت میں یہاں پر ایک ائیر بیس بنایا گیا پھر1896میں چک جھمرہ میں ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا گیا اسی سال یعنی 1896 میں ہی تھانہ چک جھمرہ بنایا گیا تھانہ چک جھمرہ کا پہلا نام تھانہ چینوٹ روڈ تھا جبکہ 1901 میں یہاں ڈرینج سسٹم بنایا جس پر انگریز سرکار نے تب 13286 روپے خرچ کیے 1901 میں ہی یہاں 5 کاٹن فیکٹریاں لگائی گئی اور غلہ منڈی بھی بنائی گئی چک جھمرہ میں موجودہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بھی برطانیہ حکومت نے ایم۔بی پرائمری سکول کے نام سے اس کی بنیاد رکھی تھی۔
اب ہم قیام پاکستان کے بعد چک جھمرہ کے اہم پراجیکٹس پر بات کرتے ہیں کہ چک جھمرہ میں کون سی سیاسی شخصیت نے یہاں پر اہم پراجیکٹس لگوانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے تو سب سے پہلے 1970 میں اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی میاں احسان الحق نے یہاں رورل ہیلتھ سنٹر کے نام سے موجودہ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کی بنیاد رکھوائی اسی طرح غلام مصطفی باجوہ مرحوم نے جھمرہ شہر میں سوئی گیس اور ٹیلی فون ایکسچینج بنوائی جبکہ 1988میں چک جھمرہ سے ایم پی اے بننے والے محمد افضل ساہی نے چک جھمرہ کو تحصیل کا درجہ دلوایا جھمرہ سکول کو ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ دلوایا رورل ہیلتھ سنٹر چک جھمرہ کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا درجہ دلوایا،تحصل چک جھمرہ میں گرلز اینڈ بوائز 4 ڈگری کالجز بنوائے، تحصیل بھر میں 128 پرائمری،27 ایلمنٹری،38 سیکنڈری اور 5 ہائیر سیکنڈری سکولز بنوا کر تعلیم کو عام کیا یہاں تک کہ چک جھمرہ میں جی سی یونیورسٹی کے کیمپس کی منظوری بھی کروائی جو کہ بعد میں آنے والے سیاست دان سنبھال نہ سکے،چک جھمرہ کے دیہاتوں میں سوئی گیس کی پائپ لائن بچھوائی،تحصیل چک جھمرہ کے دیہاتوں میں 90 کی دہائی میں پہلی بار کچی گلیوں اور بازاروں میں سولنگ اور پختہ نالیوں کی بنیاد رکھی،چک جھمرہ کے مختلف چکوک میں رورل ہیلتھ سنٹر بنوائے جبکہ جانوروں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے حیوانات کے دوا خانے بھی تعمیر کروائے گئے،جھمرہ شہر میں ٹاون میونسپل کمیٹی کی پرکشش اور کشادہ عمارت بنوائی،موٹروے جیسے اہم منصوبے کواپنے علاقے سے گزار کر جھمرہ کو ساہیانوالہ اور ڈپٹی والا کے نام سے دو انٹرچینج دی گئیں،پنجاب کی سب سے چھوٹی تحصیل میں ایشیا کا سب سے بڑا منصوبہ فیڈمک انڈسٹری زون اور ویلیو ایڈیشن بنوایا گیا ایک اندازے کے مطابق جب فیڈمک کا پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا تو یہاں پر 12 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے اسی فیڈمک انڈسٹری زون کی وجہ سے یہاں پر ایکسپریس وے جیسی سڑک کی تعمیر ممکن ہوئی یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے علاقہ کی قسمت ہی بدل دی،دیہاتوں کو شہر سے لنک کرنے کے لیے پختہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا پھر ہر گاں کو دوسرے گاں کے ساتھ ملانے والے رابط راستوں کو بھی پکی سڑکوں کو میں تبدیل کیا ان میں قابل ذکر سڑکیں کھرڑیانوالہ سے ساہیانوالہ ڈبل سڑک،جھمرہ سے شاہکوٹ روڈ کو 66 فٹ کی چوڑائی دی گئی،جھمرہ سے فیصل آباد روڈ کو 2013 میں آزاد علی تبسم اور افضل ساہی کی پرپوزل پر ڈبل روڈ بنوانے کی سکیم منظور کروائی گئی مگر اس سڑک کو 2022 میں علی افضل ساہی نے مکمل کروایا تاہم بہت سی سڑکیں ایسی ہیں جو افضل ساہی نے نوے کی دہائی میں اپنے دور وزارت میں بنوائی جبکہ کاشتکاروں کے سب سے اہم مسئلہ یعنی آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے حلقہ بھر کے متعدد راجباہ پختہ کروائے گئے،تحصیل چک جھمرہ کے ہزاروں نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرتے ہوئے مختلف سرکاری اداروں میں نوکریاں فراہم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا اس کی واضع مثال پنجاب اسمبلی میں تحصیل چک جھمرہ کے نوجوانوں کی خاطر خواہ تعداد کا بطور ملازم ہونا ہے ۔
اب ذکر کرتے ہیں آزاد علی تبسم کے پراجیکٹس کی تو انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تحصیل چک جھمرہ میں ریسکیو 1122 کا دفتر بنوایا،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نئی عمارت بنوا کر اس کو مزید بہتر کیا،جھمرہ میں 12 ایکرز پر محیط سپورٹس اسٹیڈیم بنوایا اسی طرح جھمرہ شہر میں سپورٹس کمپلیکس بنوایا،گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں سانئس لیب،کمپیوٹر لیب تعمیر کروائی ایکسپریس وے سے بذریعہ نلے والا ڈبل روڈ بنوائی تبسم کے بعد حاجی محمد اجمل چیمہ کا دور حکومت آتا ہے یہ 2018 کا الیکشن جیت کر ممبر صوبائی اسمبلی بنے پھر وزیر منتخب ہوئے ان کے چار سالہ دور حکومت میں جھمرہ میں ڈرائیونگ سکول و لائسنسگ برانچ بنائی گئی چک نمبر 156ر۔ب سے لے کر 165ر۔ب تک 6 کلومیٹر کارپٹ سڑک بنوائی جو اس علاقے کا دیرنہ مسئلہ تھا اسی طرح ڈی پی ایس سکول کے کیمپس منظور کروانے کی بھرپور کوشش کی گئی اجمل چیمہ ایم پی اے ، میاں عاصم نذیر ایم این اے منتخب ہوئے مگر ان کا کوئی بھی قابل ذکر پراجیکٹس سامنے نہیں آیا ۔
اب ذکر کرتے ہیں علی افضل ساہی کے 5 مہینے کے اقتدار کا یہ چیمہ کی نااہلی کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں جو 17 جولائی 2022 کو ہوئے تھے ان انتخابات میں حاجی محمد اجمل چیمہ کو شکست دے کر ممبر صوبائی اسمبلی بنے تو ان کو پارٹی نے وزیر تعمیرات و مواصلات کا قلمدان سونپ دیا جس کا انہوں نے بخوبی حق ادا کیا پی پی97 میں چودہ سال سے رکے ہوئے منصوبوں سمیت کئی نئے پراجیکٹس کو شروع کروایا جن کا مکمل ذکر یہاں ممکن نہیں علی افضل ساہی کے کچھ پراجیکٹس کا ذکر کریں تو ان میں کھرڑیانوالہ سے ساہیانوالہ ڈبل روڈ کا کام سابقہ سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی کے دور میں شروع ہوا مگر ان کے بعد چودہ سال گزر جانے کے بعد بھی یہ مکمل نہ ہوسکی جس پر ان کے بیٹے علی افضل ساہی نے اپنے دور حکومت میں دوبارہ تعمیراتی کام شروع کروایا اسی طرح ساہیانوالہ چینوٹ روڈ،چک جھمرہ تا ساہیانوالہ،چک جھمرہ شاہکوٹ،سالار والا شاہکوٹ،جھمرہ چینوٹ روڈ،ایکسپریس وے ٹو گورنمنٹ کالج ساہیانوالہ،سالار والا تا چک 129،رنگ روڈ فیصل آباد اسی طرح چک جھمرہ شہر ڈوگراں والا ریلوے پھاٹک سے ہوتا ہوا سبز منڈی تک کا رنگ روڈ،جھمرہ شہر میں پرانا ڈاک خانے والا روڈ سمیت جھمرہ شہر کے متعدد محلوں کے ساتھ ساتھ حلقہ بھر دیہاتوں میں پختہ بازاروں اور نکاسی کے نظام کو بہتر بنایا گیا علی افضل ساہی کے ان تعمیراتی کاموں کی ایک خاص بات جو ان کی وجہ شہرت بنی وہ ان کاموں کی سپیڈ ہے کیونکہ اتنے بڑے پراجیکٹس قلیل مدت اقتدار میں مکمل کروانے کا کریڈٹ علی افضل ساہی کو ہی جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں