89

مہنگائی مزید بڑھ گئی’ عوام پریشان (اداریہ)

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا سکھ چھین لیا ہے کم آمدنی اور دیہاڑی دار افراد کی مشکلات میں ہر پل اضافہ ہو رہا ہے سبزیاں پھل چائے کی پتی مصالحہ جات مرغی کا گوشت فارمی اور دیسی انڈے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں سال نو کے تیسرے ہفتے کے دوران بھی مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری ہے گزشتہ ہفتے میں 22اشیاء کے ریٹس بڑھے پیاز کی فی کلو قیمت 300 روپے سے بھی بڑھ گئی، رواں ہفتے کی شرح سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 44.64 فی صد پر پہنچ گئی حساس اعشاریوں کے انڈیکس کے تحت گزشتہ 8ماہ میں مہنگائی کی یہ بلند ترین سطح ہے ادارہ شماریات کے مطابق مشترکہ آمدنی والے گروپ کے لیے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی میں 0.34 فی صد اضافہ ہوا ہفتہ وار مہنگائی مئی 2023ء کے شروع میں سالانہ بنیادوں پر 48.35 فی صد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جو بتدریج کمی کے بعد اگست 2023ء کے آخر تک کم ہو کر 24.4 فی صد پر آ گئی تھی لیکن 16نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے سے قبل قلیل مدتی مہنگائی ایک بار پھر 40 فی صد سے زائد ہو گئی اس کے بعد مسلسل 41 فی صد سے اوپر ہے 18جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آلو’ پٹرول’ چینی اور چائے سمیت 8اشیاء سستی ہوئیں تازہ دودھ’ ملک پائوڈر’ بریڈ’ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام رہا ملک میں غربت کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اور یہ صورتحال شدید ترین مہنگائی کے ہاتھوں مجبور آدمی کی تکلیف میں اضافہ کا باعث ہے، مہنگائی ہر فرد ہر خاندان کا مسئلہ بنی ہوئی ہے گیس’ بجلی’ پٹرول’ ڈیزل کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عام آدمی کا جینا دشوار ہو چکا ہے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا نگران حکومت کے آنے کے بعد پٹرول کی قیمت 100 روپے لیٹر کے قریب مجموعی طور پر کم ہو چکی ہے مگر اس تناسب سے مہنگائی کی شرح میں کمی نہیں ہوئی کرائے بھی اس تناسب سے کم نہیں ہو سکے جسکی وجہ سے عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آ سکی،، ملک کی معیشت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ہم سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گزشتہ چار برس کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ سے پاکستان کی تجارت کو شدید دھچکا لگا جو درآمدی خام مال میں کمی اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بنا اور برآمدی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی زرمبادلہ کے حصول کا دارومدار زیادہ تر چاول’ کینو آم اور کھانوں تک محدود ہو کر رہ گیا 2022ء میں پاکستان اور چین نے تجارتی لین دین بڑی حد تک مقامی کرنسی میں کرنے کی طرف قدم اٹھایا جس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2023ء کے دوران چینی کرنسی میں باہمی تجارتی حجم 2018ء کے دو فی صد کے مقابلے میں 14 فیصد سے زیادہ رہا جس سے امریکی ڈالر کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا روس کے ساتھ ایندھن کی تجارت بھی چینی کرنسی میں کی جا رہی ہے معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت یوآن عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسیوں میں چوتھے نمبر پر ہے جنوری 2022ء کے بعد پہلی بار نومبر 2023ء میں بین الاقوامی ادائیگیوں کیلئے چین کی کرنسی جاپان سے زیادہ استعمال کی گئی واضح ہو کہ ایشیا دوسرے خطوں کیلئے صنعت وتجارت کی سب سے بڑی منڈی ہے، تاہم کرنسی کی مغربی اجارہ داری اس پر اثرانداز ہوتی آئی ہے حالیہ برسوں میں چین کے اٹھائے گئے اقدامات بارآور ثابت ہو رہے ہیں جو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے دونوں ملکوں کا موجودہ تجارتی حجم 26 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں بڑے اضافہ کی گنجائش ہے سی پیک کی بدولت مستقبل قریب میں اس میں تیزی سے اضافے کی امید ہے نگران حکومت چونکہ منتخب حکومت نہیں لہٰذا وہ مستقبل کے بارے میں کوئی حکمت عملی مرتب کرنے میں آزاد نہیں البتہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے بعد جو بھی سیاسی قیادت حکومت سازی کرے گی اس پر بہت بھاری ذمہ داریاں آن پڑیں گی جن میں مہنگائی کا خاتمہ بے روزی پر قابو پانا، پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو کنٹرول کرنا معاشی صورتحال کو سنبھالا دینا عوام کی بے چینی کو دور کرنا ملک کی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا وغیرہ وغیرہ شامل ہے اگر عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آنے والی حکومت ان سب مسائل کو حل کرے گی تو ہی عام آدمی کی زندگی آسان ہو گی اگر آنے والے حکمران بھی عوام کو مہنگائی سے نجات نہ دلا سکے تو یہ ملک وقوم کی بڑی بدقسمتی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں