89

عام انتخابات کے نتائج، سیاسی قوتوں کی ذمہ داریاں (اداریہ)

عام انتخابات میں قوم نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا جو خوش آئند ہے، ملک کے موجودہ حالات میں جس بھی پارٹی کی حکومت بنے اسے قوم کو درپیش مسائل کے حل پر مکمل توجہ دینا ہو گی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایک لاکھ 37ہزار فوجی اہلکاروں نے انتخابی ماحول پرامن بنانے کیلئے سول اداروں کی مدد کی، نگران حکومت نے عام انتخابات کے دوران ملک میں امن وامان کی صورتحال واضح کی ہے، نگران وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دن ملک کے مختلف حصوں میں شرپسندی کی 61وارداتوں میں 16شہادتیں ہوئیں، ان کا کہنا ہے کہ نقصانات زیادہ ہو سکتے تھے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی کا نظام بہترین طریقے سے چلایا جس سے بڑا نقصان نہ ہو سکا، عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت کو اصلاحات پر مکمل توجہ دینی چاہیے، اگر فوری اصلاحات کی جائیں تو پاکستان کے اقتصادی حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے، نئی حکومت کو بہت سے محاذوں پر کام کرنا پڑے گا، معیشت کی بحالی میں اوورسیز پاکستانی کردار ادا کر سکتے ہیں، حکومت اگر اوورسیز پاکستانیوں کو یہ گارنٹی دینے میں کامیاب رہی یہ ہم آپ کے لیے کچھ کرنے جا رہے ہیں تو ان کی جانب سے ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا، اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور اس کا سب کو اندازہ ہو چکا ہے مگر اب ان کے مسائل کے حل کیلئے حکومت کو آگے آنا ہو گا، پاکستان کے موجودہ حالات میں جس بھی پارٹی کی حکومت بنے اسے سب سے پہلے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر بنانا چاہیے کیونکہ دہشت گردی اور بدامنی کا قلع قمع کئے بغیر معاشی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا، انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت کے بعد سیاسی قائدین نے اپنے پتے ترتیب دینا شروع کر دیئے ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری’ بلاول بھٹو اور فریال تالپور نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے گھر پہنچے جہاں تھوڑی دیر بعد مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف بھی ساتھیوں کے ہمراہ پہنچے، جہاں دونوں رہنمائوں کی اہم ملاقات ہوئی، شہباز شریف اور آصف علی زرداری نے ملاقات میں آئندہ حکومت سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جبکہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا گیا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم تمام پارٹیوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، (ن) لیگ الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، ہمارا فرض ہے کہ ملک کو بھنور سے نکالیں، سب مل کر مثبت کردار ادا کریں، عام انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جن باتوں کا اظہار کیا وہ قابل تحسین ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی فیصلے کا احترام کیا جائے اور سیاسی جماعتوں کے قائدین افہام وتفہیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل جل کر ملک وقوم کو درپیش مسائل حل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں