66

ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام کی ضرورت (اداریہ)

عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے مسلم لیگ (ن)’ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان میدان میں آ گئے ہیں، حالیہ 20برسوں میں ہونیوالے عام انتخابات کے مقابلے میں موجودہ 2024ء کے الیکشن میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ نسبتاً بہتر 48فیصد رہا، الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہر شخص کے ذہن میں سوال ہے کہ ملک کا نیا سیاسی منظرنامہ کیا ہو گا، وفاق اور صوبوں میں حکومتیں کس کی بنیں گی، حکومت سازی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز متحرک ہو گئے ہیں، آزاد امیدواروں کا کردار کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے جن کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اگرچہ آزاد امیدواروں کی اکثریت کا تعلق PTI سے ہے لیکن تاثر یہ ہے کہ بعض امیدواروں نے مختلف جماعتوں کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا، جہاں تک وفاق میں حکومت سازی کا تعلق ہے تو سب سے بڑا گروپ آزاد امیدواروں کا ہے لیکن چونکہ انہوں نے پارٹی کے نشان پر الیکشن نہیں لڑا اس لئے ان کی حیثیت آزاد ممبر کی ہے، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی دونوں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ آزاد ممبران کو اپنی جماعت میں شامل کر لیا جائے تاکہ انہیں مخصوص نشستوں پر زیادہ کوٹہ مل سکے، پی ٹی آئی کی قیادت کا اب بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ اپنے آزاد ارکان کو دوسری جماعتوں میں جانے سے روکے کیونکہ وہ پلڑا بھاری ہو جائے گا جس جانب آزاد ارکان جائیں گے، عام انتخابات 2024ء کے اب تک کے نتائج کے مطابق 9سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کا حصہ بن گئی ہیں، جن میں دو نئی استحکام پاکستان پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے علاوہ مسلم لیگ ضیاء بھی پارلیمنٹ میں پہنچ گئی، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد امیدواروں سے رابطے کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے، میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر کمیٹی کے ارکان آزاد ارکان سے رابطے کرینگے جنہیں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی جائے گی، دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق’ بلوچستان اور پنجاب میں پیپلزپارٹی کے بغیر حکومت نہیں بن سکتی، پارٹی مجھے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر چکی ہے، آزاد امیدواروں کے فیصلے پر عوام کی نظر ہے، سیاسی استحکام چاہتے ہیں، اکیلے حکومت نہیں بنا سکوں گا، جو ہونا تھا، ہو چکا، ملک کے مفاد میں سیاسی اتفاق کی کوشش کریں، سیاسی استحکام کے بغیر بننے والی حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے میں مشکل ہو گی، ان حالات وواقعات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان افہام وتفہیم کی اشد ضرورت ہے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا یہ کہنا بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جمہوری قوتوں کی نمائندہ متحد حکومت قومی مقصد بہتر طریقے سے پیش کرے گی، پاکستان ترقی پسند ملک ہے، کسی بھی قسم کا انتشار موزوں نہیں، دعا ہے کہ عام انتخابات ملک میں سیاسی معاشی استحکام لائیں، خوشحالی لائیں، آرمی چیف نے الیکشن2024ء کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے انعقاد پر نگران حکومت’ الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتیں مبارکباد کی مستحق ہیں، غور کرنا چاہئے کہ آج ملک کہاں کھڑا ہے اور کہاں ہونا چاہیے تھا، یہ جیتنے اور ہارنے کا مقابلہ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کا تعین کرنے کی مشق ہے، پاکستانی عوام نے اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے آزادانہ اور بلا روک ٹوک شرکت کی جو جمہوریت کے لیے ان کے عزم کا ثبوت اور آئیں پاکستان پر اعتماد ظاہر کرتا ہے، اﷲ کرے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی باتوں پر عمل ہو، سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ان باتوں پر غور کر کے ملک میں افہام وتفہیم اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے، قومی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی مشق کا کامیاب انعقاد خوش آئند ہے، اﷲ کرے الیکشن 2024ء ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام لائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں