75

سیاسی استحکام کا عزم’ قابل تحسین اقدام (اداریہ)

عام انتخابات کے بعد ملک میں حکومت سازی کیلئے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے درمیان دوسری ملاقات ہوئی ہے اور جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفد نے میاں محمد شہباز شریف کی زیرقیادت لاہور میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی ہے جس کے دوران ملک کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی، قائدین نے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تعاون پر اتفاق کیا’ دونوں جماعتوں کے قائدین نے اصولی اتفاق کیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے، ان کا کہنا ہے کہ عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا اور ہم عوام کو مایوس نہیں کرینگے، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین کا ملک کو سیاسی عدم استحکام سے بچانے پر اتفاق خوش آئند ہے، عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے جوڑتوڑ میں تیزی آ گئی ہے، ایم کیو ایم کے وفد کی بھی لیگی قائدین سے ملاقات ہوئی ہے، قائد (ن) لیگ میاں محمد نواز شریف اور (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات آج ہو رہی ہے اور (ق) لیگ حکومت سازی میں شامل ہونے کیلئے تیار ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک میں 8فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے اور تمام قومی وصوبائی اسمبلیوں کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی زیرقیادت ان کی جماعت کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں انتخابی نتائج کے بعد پارٹی پوزیشن’ حکومت سازی’ سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین سے رابطوں سمیت مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس میں خاص طور پر مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ متنازعہ حلقوں میں دوبارہ گنتی نہ ہوئی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے، وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کیخلاف عدالت جائیں گے اور اس بار پارلیمان میں خرید وفروخت کا راستہ روکیں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین جمہوری اقدار کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کریں اور ملک کو سیاسی عدم استحکام سے بچایا جائے، ماضی کی تلخیوں کو دور کر کے مفاہمتی رویہ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور امید ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں