84

قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کی ضرورت(اداریہ)

عام انتخابات کے بعد ملک میں بننے والی نئی حکومت کو آئندہ جون تک بڑی ادائیگیاں کرنی ہیں اور اس مقصد کیلئے اس کو طویل عرصے تک بڑا قرض پروگرام درکار ہو گا، اس حوالے سے جاری کردہ ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کیلئے آئی ایم ایف کا بیل آئوٹ پیکج ناگزیر ہو گا، متذکرہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرضوں کی صورتحال غیر یقینی اور غیر مستحکم ہے، حکومت پاکستان پر آئی ایم ایف سمیت 30جون تک کل قرضہ 820کھرب روپے تک پہنچ جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ان حالات میں عوام الیکشن 2024ء میں مینڈیٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور جو نئی حکومت بنے گی، اس سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ملک وقوم کو درپیش مسائل سے نکالنے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے، عوام کو درپیش مشکلات حل ہونگی اور مہنگائی وبیروزگاری سے بھی نجات مل جائے گی، ان حالات میں ضروری ہے کہ ملک میں جو نئی حکومت بنے وہ نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے’ ترسیلات زر اور برآمدات بڑھانے پر مکمل توجہ دے تاکہ درپیش مشکلات حل ہوں اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں