84

مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ (اداریہ)

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں آئی ایم ایف کی اور شرط پر صارفین سے 242ارب روپے وصول کرنے کیلئے گیس مہنگی کرنے پر غور کیا گیا، پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے گیس مہنگی کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے تاہم مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کابینہ ممبران کے شعبہ جاتی انٹرسٹ کی وجہ سے مختلف سیکٹرز کیلئے گیس کے ٹیرف کا تعین نہیں کیا جا سکا، آج ای سی سی کے اجلاس میں ٹیرف کا تعین کئے جانے کا امکان ہے، یاد رہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا تعین کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی طرف سے حکومت کو 15فروری کی ڈیڈلائن دی گئی تھی، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ای سی سی کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں پر نظرثانی گیس کمپنیوں کی ریونیو ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے، ای سی سی نے فریٹلائزر پلانٹس کے لیے گیس کی یکساں قیمتیں مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے جبکہ ای سی سی نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کو ماضی قریب میں یوریا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ وزارت صنعت وپیداوار کو بھی مارکیٹ میں یوریا کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کے علاوہ ای سی سی نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی 40لاکھ مالیت کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 25فیصد کرنے کی منظوری دیدی ہے، اس طرح ایف بی آر کو 4.5 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو گا، لیکن مقامی سطح پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھنے سے گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے، گیس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، بجلی کمپنیوں نے صارفین سے 85ارب روپے وصول کرنے کی درخواست کی ہے، نیپرا نے بجلی کمپنیوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، نیپرا اتھارٹی اعداد وشمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی، مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پریشانی کا باعث بنے گا’ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی خبر نے لوگوں کو شدید پریشان کر دیا ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ نگران حکومت کی طرف سے مہنگائی کے ستائے شہریوں پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے اور پٹرول’ ڈیزل’ ڈیزل آئل اور مٹی کا تیل مہنگا ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، اوگرا کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی مارکیٹ کے تناسب سے ہو سکتا ہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بجلی’ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ جاتی ہے، حتیٰ کہ پیداواری لاگت میں اضافے کو جواز بنا کر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ کر دیا جاتا ہے، عوام مہنگائی سے پہلے ہی سخت پریشان ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ ایسے اقدامات اٹھائے کہ مہنگائی میں اضافے کی بجائے کمی یقینی ہو سکے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست پر نیپرا نے فیصلہ محفوظ کیا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اراکین نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاج کیا ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ لوگوں کو گیس کے بھاری بل بھیجے جا رہے ہیں، بلاشبہ! گیس کی قیمتوں میں اضافہ لوگوں کے لیے شدید مسائل پیدا کر رہا ہے، عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے بیزار ہے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاج کر کے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی گئی ہے، اس وقت عام آدمی کیلئے گیس کا بل بھرنا مشکل ہو چکا ہے، بجلی’ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے بار بار سوچنا چاہیے کہ اس سے عام آدمی شدید متاثر ہو گا، لہٰذا مہنگائی میں اضافہ کی بجائے اسے کم کرنا حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کی مشکلات میں کمی ہو جائے اور انہیں سکھ کا سانس لینا میسر ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں