78

ٹیکسٹائل سیکٹر کو سستی توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے (اداریہ)

ٹیکسٹائل کا شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ جنوری میں ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 10فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 45کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں لیکن رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں تین فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور مہنگی توانائی کے باعث پیداواری لاگت میں ہونے والا اضافہ اس کی وجہ قرار دیا گیا ہے ٹیکسٹائل ملک کا کلیدی برآمدی شعبہ ہے اور مالی سال 2021-22ء میں اس کی مجموعی برآمدات کا حجم 19ارب ڈالرز سے زائد ریکارڈ ہوا تھا لیکن مالی سال 2022-23ء میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 15فیصد کے لگ بھگ تنزلی کے بعد 16ارب 50کروڑ ڈالر تک محدود رہیں جس کی وجہ مہنگی توانائی کے ساتھ ساتھ حکومتی عدم توجہی قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا، پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق ٹیکسٹائل برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 3.33 فیصد اضافہ ہوا، واضح رہے کہ چند ماہ قبل وزارت تجارت نے اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد ہی ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کو توانائی کی علاقائی مسابقت قیمتوں کی پیش کش کرے گی اور زیرالتواء ٹیکس ریفنڈ جاری کر کے نقدیت کے مسائل کو حل کرے گی، تاہم اس فیصلے پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا، پی بی ایس کے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری میں تیار ملبوسات کی برآمدات بالحاظ قدر 13.85 فیصد اور بالحاظ قدر مقدار میں 28.06 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نٹ ویئر کی برآمدات بالحاظ قدر 8.39 فیصد اور بالحاظ مقدار 69.84 فیصد بڑھیں’ تولیے کی برآمدات قدر کے حساب سے 5.41 فیصد اور مقدار کے حساب سے 11.45 بڑھیں، تاہم سالانہ بنیادوں پر جنوری میں خام روئی اور دھاگے کی برآمدات میں 126.45 اور 19.78 فیصد اضافہ ہوا، جنوری میں ٹیکسٹائل سیڈاپس تولیے کے علاوہ کی برآمدات 9.81 فیصد بڑھ گئیں جبکہ ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات میں 34.81 فیصد کمی ہوئی جو اس بات کی علامت ہے کہ توسیع یا جدت کے منصوبے ترجیح نہیں تھے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی توسیع اور جدت پر مکمل توجہ دی جائے تاکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں قابل قدر اضافے کو یقینی بنایا جا سکے، جنوری کے دوران خام روئی کی درآمد میں 91.11 فیصد کمی ہوئی، مالی سال کے ابتدائی 7ماہ کے دوران کل برآمدات گزشتہ سال کے 16ارب 48کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 7.78 فیصد اضافے سے 17ارب 77کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، یہ بات خوش آئند ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل کے باوجود اس شعبے کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 10فیصد اضافہ ہوا جبکہ حکومتی سطح پر اس شعبہ کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے، کپاس کی پیداوار میں اضافے پر مکمل توجہ دی جا رہی ہے اور کپاس آگائو مہم کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، ملک میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو مہنگی توانائی سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے اور جس کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے سستی توانائی کی فراہمی پر فوری توجہ دی جائے، حکومت کو چاہیے کہ وہ کاروباری اداروں کو سستی اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل یقینی بنانے کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ برآمدات میں اضافے کی صورت میں زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہونگے اور یہ بات یقینی طور پر ملک میں معاشی استحکام کا باعث بنے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں