72

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی پر اتفاق (اداریہ)

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کیلئے معاملات طے پا گئے ہیں، معاہدے کے تحت صدر مملکت آصف علی زرداری جبکہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ہونگے، پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو گی، مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میاں محمد شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو اپنی اکثریت شو کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی اور پیپلزپارٹی ومسلم لیگ (ن) نے حکومت سازی کیلئے اپنے نمبر پورے کر لئے ہیں، وزیراعظم کے لیے میاں محمد شہباز شریف دونوں پارٹیوں کے متفقہ امیدوار ہونگے، آصف علی زرداری صدر مملکت کے لیے مشترکہ امیدوار ہونگے، بحران کے خاتمے کیلئے حکومت بنا کر معاشی ٹیم تشکیل دینگے، دونوں جماعتوں نے عوامی توقعات پر پورا اترنے کا عزم کیا، یہ بات خوش آئند ہے کہ الیکشن 2024ء کے بعد ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کے معاملے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، اﷲ کرے نئی حکومت ملک وقوم کو درپیش مسائل ومشکلات حل کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے اور لوگوں کو بھرپور ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے، قبل ازیں میاں محمد نواز شریف کی ہدایت پر حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے مشاورتی عمل میں حصہ لیا، میاں محمد شہباز شریف لاہور سے اسلام آباد اور پھر مری پہنچے، جہاں انہوں نے میاں محمد نواز شریف سے اہم ملاقات کی جس کے دوران وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کی گئی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رابطہ کمیٹی نے میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کو پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطوں پر بریف کیا، بعدازاں بلاول بھٹو زرداری کی زیرقیادت پیپلزپارٹی کا وفد حکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کیلئے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر پہنچا، جہاں میاں محمد شہباز شریف بھی پہنچے اور مذاکرات کو حتمی شکل دیدی گئی، مذاکرات کے دوران اسحاق ڈار’ مراد علی شاہ’ قمر زمان کائرہ اور احسن اقبال بھی موجود تھے، طے پانے والے معاملات کے تحت قومی اسمبلی کا سپیکر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور چیئرمین سینیٹ پاکستان پیپلزپارٹی سے ہو گا، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صوبوں میں سیاسی جماعتیں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں مگر وفاق میں کسی بھی سیاسی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے، اب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے لیے طے پانے والا معاہدہ خوش آئند ہے، ملک میں عام انتخابات کے بعد سیاسی عدم استحکام کے ملکی معیشت پر بھی واضح اثرات ظاہر ہوئے جبکہ الیکشن سے قبل سیاسی ومعاشی تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ عام انتخابات کے بعد ملک معاشی وسیاسی استحکام کی طرف گامزن ہو گا لیکن حکومت سازی کے لیے اتفاق رائے میں تاخیر کے باعث حالات اس کے برعکس دکھائی دیئے، اب چونکہ حکومت سازی کیلئے معاملات طے پا گئے ہیں اس لئے ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام پیدا ہو گا، ملک میں بننے والی نئی حکومت کو اقتدار میں آ کر مہنگائی کے طوفان پر قابو پانا ہو گا تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے، نئی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائے، اس وقت جو حالات ہے ملک کو اس سے نکال کر سیاسی ومعاشی منظرنامے کو بہتر بنانا اشد ضروری ہے اور امید ہے کہ نئی حکومت اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں