130

پی آئی اے کی نجکاری ، وعدوں کیساتھ 30اقدامات ضروری

اسلام آباد (بیوروچیف)پی آئی اے کی نجکاری کیلئے نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وعدوں کے باوجود پرائیویٹائزیشن کمیشن کو اس پیچیدہ مقصد کیلئے 30 اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اعلی سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر یہ تمام 30 اقدامات جلد از جلد پورے کر لیے جائیں تو تخمینے کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کا عمل 6 ماہ سے ایک سال میں مکمل کیا جا جا سکتا ہے۔ 30 میں سے صرف ایک اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ حکومت کو ان 35 قرض دینے والوں (لینڈرز)سے نو آبجیکیشن سرٹیفکیٹ (این او سی)لینا ہوگا جنہوں نے پی آئی اے کو قرضہ دیا ہے تاکہ اس کے آپریشنز جاری رہ سکیں۔ ہر ایک لینڈر سے این او سی لینے میں کتنا وقت لگے گا اس کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن جون 2024 تک نجکاری کا عمل پورا کرنا ناممکن ہے۔ سرکاری ذریعے نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس (ایچ ای سی)کی بہت چھوٹی نجکاری کی گئی تھی کیونکہ اس کا سیل پرچیز ایگریمنٹ (ایس پی اے)2022 میں مکمل ہوا تھا، لیکن طریقہ کار کے تقاضوں میں تقریبا دو برس کا وقت لگا اور اس کے بعد 2024 میں اسے نئے خریدار کے سپرد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب پی آئی اے کی نجکاری سب سے پیچیدہ معاملہ ہے اور اگر یہ ایک سال میں مکمل ہو جائے تو اسے بڑا کارنامہ سمجھا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق نگراں وزیر برائے نجکاری نے بھی دعوی کیا تھا کہ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بنیادی کام کر لیا تھا، اور جب وزیراعظم شہباز شریف نے عہدہ سنبھالا تو انہیں بتایا گیا کہ جون 2024 تک نجکاری کا کام مکمل ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ محض باتیں ہیں اور اس کارروائی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اعلی فوجی قیادت کو بتا دیا گیا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری جلدبازی میں مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حلقوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بتا دیا ہے کہ نجکاری کا کام احسن انداز سے مکمل کرنے کیلئے 6 ماہ سے ایک برس کا وقت لگ سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کو دو اداروں میں تقسیم کرنے کی طرف جانا ہوگا اور اس مرحلے تک پہنچنے کیلئے چار سے پانچ اقدامات کرنا ہوں گے، مثلا جن اداروں نے پی آئی اے کو قرضہ دیا ہے ان سے این او سی لینا۔ یہ کام پورا کرنے میں بھی کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ ایک اور خطرہ یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف پی آئی اے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر اعتراض اٹھا سکتا ہے کیونکہ 260 ارب روپے کے قرضہ جات کو طے کرنے میں سالانہ 32 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے، جبکہ قرضوں کی مقامی ری اسٹرکچرنگ پر 16 ارب روپے لگیں گے۔ مالی اخراجات کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے پی آئی اے کے مقامی قرضہ جات کا تصفیہ کرنے کیلئے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ آئی ایم ایف نے بنیادی ڈھانچہ جاتی مسائل سے نمٹنے پر زور دیا ہے جن میں توانائی کے نظام کو بہتر بنانا، نقصانات (لیکیجز)کا خاتمہ اور بلز کی وصولی کو بہتر بنانا اور ساتھ ٹیرف کو ریشنلائز کرنا تاکہ توانائی کی پیداواری صلاحیت کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ تاہم گزشتہ نگراں حکومت کے قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے سب کچھ مکمل ہے اور صرف رسمی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں